جگر انسانی جسم کا ایک انتہائی اہم عضو ہے۔ یہ ہمارے کھانے کو ہضم کرنے اور اس میں موجود وٹامنز، پروٹین اور گلوکوز جیسے غذائی اجزا کو پروسیس کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ جگر نقصان دہ امونیا کو یوریا میں تبدیل کرنے کے ساتھ ساتھ نکوٹین اور الکحل جیسے زہریلے مادوں کے اثرات کو کم کرنے میں بھی مدد کرتا ہے۔ یہ عضو 24 گھنٹے مسلسل کام کرتا رہتا ہے۔ماہرین جگر کی صحت برقرار رکھنے پر زور دیتے ہیں۔ تاہم، جگر کی بیماریاں اکثر آہستہ آہستہ بڑھتی ہیں اور بعض اوقات بیماری سنگین ہونے تک واضح علامات سامنے نہیں آتیں، جس کی وجہ سے بروقت علاج مشکل ہو سکتا ہے۔ آئیے جگر کی خراب ہوتی صحت کی چند ایسی علامات پر نظر ڈالتے ہیں جنہیں نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔اس طرح کے درد کو ریفرڈ پین کہا جاتا ہے، یعنی مسئلہ جسم کے ایک حصے میں ہوتا ہے لیکن درد کسی دوسرے حصے میں محسوس ہوتا ہے۔اس کی ایک وجہ فرینک نروز پر دباؤ بھی ہو سکتی ہے۔ جب ان اعصاب پر دباؤ پڑتا ہے تو دائیں کندھے میں درد محسوس ہو سکتا ہے۔ اس کے علاوہ تھکن، یرقان، پیٹ پھولنا یا جسم میں سوجن جیسی علامات بھی ظاہر ہو سکتی ہیں۔مسلسل خارش اور جلد کا خشک رہنا بھی جگر سے متعلق مسائل کی جانب اشارہ کر سکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق جب جگر کی کارکردگی متاثر ہونے لگتی ہے تو وزن کم ہونا، تھکن، کمزوری، جلد پر خارش اور جلد کے نیچے خون کی چھوٹی نالیوں کا نمایاں ہونا جیسی علامات سامنے آ سکتی ہیں۔رات کے وقت نیند کھلنے کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں، لیکن اگر یہ مسئلہ مسلسل جاری رہے تو اسے نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔جب جگر مناسب طریقے سے کام نہیں کرتا تو خون میں فاضل مادے جمع ہونے لگتے ہیں، جو دماغ کے کام کرنے کے طریقے کو متاثر کر سکتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں نیند کے معمولات متاثر ہو سکتے ہیں اور رات میں بار بار آنکھ کھلنے کی شکایت ہو سکتی ہے۔کھانے کے بعد پیٹ میں درد، بھاری پن یا غیر معمولی طور پر پیٹ پھولنا بھی جگر کی بیماری کی علامت ہو سکتا ہے۔ یہ جگر میں سوزش، فیٹی لیور یا جسم میں سیال جمع ہونے جیسے مسائل سے متعلق ہو سکتا ہے۔جگر میں چربی جمع ہونے یا جگر کو شدید نقصان پہنچنے کی صورت میں پیٹ کے اندر سیال جمع ہو سکتا ہے، جسے ایسائٹس کہا جاتا ہے۔ اس کی وجہ سے پیٹ پھولا ہوا اور بھرا بھرا محسوس ہو سکتا ہے۔اگر کھانے کے بعد بھی تسلی یا پیٹ بھرنے کا احساس نہ ہو، یا تھوڑی مقدار میں کھانا کھانے کے بعد ہی متلی محسوس ہونے لگے، تو یہ کسی اندرونی طبی مسئلے کی علامت ہو سکتی ہے۔جگر جسم میں غذائی اجزا اور مختلف مادوں کو پروسیس کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ جگر کی کارکردگی متاثر ہونے پر ہاضمے سے متعلق مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔ اگر اس کے ساتھ تھکن، پیٹ میں درد یا یرقان جیسی علامات بھی موجود ہوں تو ڈاکٹر سے مشورہ کرنا ضروری ہے۔بغیر کسی واضح وجہ کے مسلسل تھکن یا کمزوری بھی جگر کی خرابی کی علامت ہو سکتی ہے۔ اگر مناسب آرام کے باوجود تھکن برقرار رہے تو اسے نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔جگر کی بیماری میں جسم کے میٹابولزم اور زہریلے مادوں کو پروسیس کرنے کی صلاحیت متاثر ہو سکتی ہے، جس کے نتیجے میں شدید تھکن اور کمزوری محسوس ہو سکتی ہے۔اگر آپ کو طویل عرصے سے بلاوجہ تھکن، کمزوری یا سستی محسوس ہو رہی ہے تو ڈاکٹر سے مشورہ کرنا بہتر ہے۔ ان میں سے کوئی ایک علامت لازماً جگر کی بیماری کی نشاندہی نہیں کرتی۔ ایسی علامات کی کئی دوسری وجوہات بھی ہو سکتی ہیں۔ اگر علامات مسلسل رہیں، بڑھتی جائیں یا ان کے ساتھ یرقان، پیٹ میں شدید سوجن یا درد جیسی علامات ظاہر ہوں تو طبی ماہر سے رجوع کریں۔(ڈسکلیمر: یہاں فراہم کردہ صحت سے متعلق معلومات اور تجاویز صرف جانکاری مقاصد کے لیے ہیں۔ ہم یہ معلومات سائنسی تحقیق، مطالعات اور طبی و صحت کے ماہرین کی سفارشات کی بنیاد پر فراہم کرتے ہیں۔ ان تجاویز پر عمل کرنے سے پہلے اپنے ڈاکٹر سے مشورہ کرنا بہتر ہے۔)
جگر کی خراب ہوتی صحت کی چھ پوشیدہ علامات، جنہیں نظر انداز نہیں کرنا چاہیے

