لکھنؤ (نیوز ڈیسک): ایشیا کی عظیم دینی درسگاہ دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ کے مہتمم، انٹیگرل یونیورسٹی کے چانسلر، اور بین الاقوامی سطح پر معروف عالمِ دین و ممتاز عربی ادیب مولانا ڈاکٹر سعید الرحمٰن اعظمی ندوی 92 برس کی عمر میں انتقال کر گئے। ان کے سانحۂ ارتحال کی خبر عام ہوتے ہی برصغیر سمیت پورے عالمِ اسلام کے تعلیمی، فکری اور دینی حلقوں میں گہرے رنج و غم کی لہر دوڑ گئی ہے۔ان کا انتقال علمی و فکری دنیا کے لیے ایک ایسا ناقابلِ تلافی خسارہ ہے جس کی تلافی مدتوں ممکن نہیں ہو سکے گی। مولانا کی رحلت پر ملک و بیرونِ ملک کے سرکردہ علماء، دانشوروں، سماجی رہنماؤں اور سیاسی شخصیات نے گہرے دکھ اور تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے اسے علم و ادب کے ایک زریں دور کا اختتام قرار دیا ہے۔ علماء کی ایک بڑی تعداد نے ان کی وفات کو ’مَوْتُ الْعَالِمِ مَوْتُ الْعَالَمِ‘ (ایک عالم کی موت گویا پوری دنیا کی موت ہے) قرار دیا۔مولانا ڈاکٹر سعید الرحمٰن اعظمی ندویؒ ایک بلند پایہ مصنف، بصیرت افروز ادیب، زیرک صحافی اور عربی زبان و ادب کے ایسے مستند ماہر تھے جن کی علمی و تدریسی خدمات کا دائرہ سرحدوں سے ماورا تھا۔ وہ ربع صدی سے زائد عرصے تک ندوۃ العلماء کے مہتمم کے منصب پر فائز رہے اور عربی جریدے ‘البعث الاسلامی’ کے مدیرِ اعلیٰ کی حیثیت سے بھی علمی و صحافتی دنیا میں نمایاں خدمات انجام دیں۔
علم و ادب کے زریں دور کا اختتام: مولانا ڈاکٹر سعید الرحمٰن اعظمی ندوی انتقال کر گئے

