واشنگٹن ڈی سی :امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ روسی ہم منصب ولادیمیر سے جلد ہی روس میں ایک لیبارٹری ٹیکنیشن کی طاعون سے مبینہ موت کے حوالے سے بات کریں گے۔
اقوام متحدہ نے بھی واقعے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے روس سے معلومات فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق روسی حکام کی جانب سے اس امر کی تردید کی گئی ہے کہ وہاں طاعون سے بچاؤ کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں اور پچھلے ہفتے سائبیریا کے علاقے آرکتسک میں واقع طاعون کے ریسرچ سینٹر میں پیش آنے والے واقعے کو زیادہ اہمیت نہیں دی ہے۔
تاہم دوسری جانب اس معاملے پر واشنگٹن کی تشویش بڑھ رہی ہے اور وزیر خارجہ مارکو روبیو نے روس پر زور دیا ہے کہ وہ صورت حال کے حوالے سے شفافیت اختیار کرے جبکہ عالمی ادارہ صحت نے بھی منگل کو ایسی ہی اپیل کی تھی۔
آئس لینڈ کے دورے کے موقع پر ان کا کہنا تھا کہ ’ہم روس سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ اس معاملے کے حوالے سے شفافیت اختیار کرے اور دنیا کے ساتھ مزید معلومات شیئر کرے، تاہم ہم سب صورت حال کی مناسبت سے ردعمل کے طور پر ضروری اقدامات کر سکیں۔‘
بعدازاں امریکی صدر کی جانب سے بھی بیان سامنے آیا کہ وہ اس معاملے پر روسی صدر ولادیمیر پوتن سے بات کریں گے۔
منگل کو جب وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کے دوران اس بارے میں پوچھا گیا تو ان کاکہنا تھا کہ ’میری بات چیت طے ہو چکی ہے، جو بہت جلد ہو گی۔‘
جب صدر ٹرمپ سے پوچھا گیا کہ امریکی انٹیلی جنس اداروں کا اس صورت حال کے بارے میں کیا موقف ہے، تو ان کا کہنا تھا کہ ’ہم اس معاملے پر تفصیل سے بات کر رہے ہیں اور ممکنہ طور پر کل اس بارے میں رپورٹ دیں گے۔‘
وال سٹریٹ جرنل نے رپورٹ کیا ہے کہ امریکہ نے روس کو ایک خفیہ سفارتی پیغام بھی بھیجا ہے جسے ڈیمارش کہا جاتا ہے اور اس میں ماسکو کو خبردار کیا گیا ہے کہ معلومات فراہم کرنا صحت کے حوالے سے اس کی بین الاقوامی ذمہ داریوں کی خلاف ورزی ہے۔
’موت کی وجہ واضح نہیں‘
روسی خبر رساں ادارے پیپل آف بیکال نے جمعے کو رپورٹ کیا تھا کہ مرنے والی خاتون جن شناخت 28 سالہ دریا شپلووا کے طور پر ہوئی ہے، ممکنہ طور پر ایک ٹوٹی ہوئی ٹیسٹ ٹیوب کی وجہ سے پھیپھڑوں کے طاعون کا شکار ہوئی تھی۔
دیگر میڈیا رپورٹس میں بھی ان کی موت کا تعلق مرکز میں پیش آنے والے ایک حادثے کے ساتھ جوڑا گیا تھا۔
پیپل آف بائیکال کی جانب سے یہ بھی بتایا گیا کہ قریباً 200 ایسے افراد کو قرنطینہ میں رکھا گیا ہے جن کا ممکنہ طور پر اس خاتون سے رابطہ ہوا تھا۔
تاہم دوسری جانب روسی حکام کا کہنا ہے کہ موت کی اصل وجہ کی تصدیق نہیں ہوئی ہے۔
صحت کے نگران ادارے روسپوتریب نادزور نے انٹرنیٹ پر گردش کرنے اس دستاویز کی بھی تردید کی ہے جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ وبا سے متعلق خصوصی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
بیان کے مطابق ’ہم واضح کرنا چاہتے ہیں کہ یہ دستاویز اور اس میں موجود معلومات سرکاری ذرائع سے جاری نہیں ہوئیں اور یہ درست نہیں ہیں۔‘
خاتون کی موت کے بعد روسی حکام کی جانب سے یہ بھی کہا گیا تھا کہ ٹیسٹیوں میں طاعون سے متعلق اجزا کی موجودگی نہیں پائی گئی۔
آرکستک کے گورنر ایگور کوبزیف نے پیر کو کہا تھا کہ خاتون کی موت نمونیا سے ہوئی۔
نمونیہ طاعون، اقوام متحدہ اور امریکا نے روس سے کیا معلومات طلب کیں?

