واشنگٹن:امریکہ میں سنہ 2009 کے دوران ٹیکساس کے فورٹ ہڈ فوجی اڈے پر خونریز فائرنگ کر کے 13 افراد کو موت کے گھاٹ اتارنے والے آرمی ماہرِ نفسیات میجر ندال ملک حسن (Major Nidal Malik Hasan) کی سزائے موت پر عمل درآمد کا وقت قریب آ گیا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مجرم نضال ملک حسن کو فائرنگ اسکواڈ کے ذریعے پھانسی دینے کی باضابطہ منظوری دے دی ہے۔
پینٹاگون کے ترجمان شان پارنیل (Sean Parnell) نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر جاری اپنے بیان میں اس فیصلے کی تصدیق کرتے ہوئے لکھا: "نضال حسن کے لیے حساب کا دن آخر کار آ گیا ہے۔” انہوں نے واضح کیا کہ اب آرمی سیکرٹری اس سزائے موت پر عمل درآمد کے لیے حتمی وقت اور مقام کا تعین کریں گے۔ یاد رہے کہ امریکی فوج کے نظامِ عدل میں سنہ 1961 کے بعد سے اب تک سزائے موت پر عمل درآمد نہیں کیا گیا ہے۔
سنہ 2009 میں پیش آنے والے اس لرزہ خیز واقعے کے دوران آرمی سائیکاٹرسٹ میجر ندال ملک حسن نے فورٹ ہڈ کے ایک طبی عمارت میں داخل ہو کر جہاں فوجی چیک اپ کروا رہے تھے، نعرہ تکبیر بلند کرتے ہوئے لیزر سائیٹ والی پستول سے اندھا دھند فائرنگ کر دی تھی۔ اس المناک حملے میں 13 افراد جاں بحق اور 30 سے زائد زخمی ہو گئے تھے۔
مقدمے کی سماعت کے دوران ندال حسن نے اپنے دفاع میں کوئی خاص کوشش نہیں کی تھی اور جیوری کو بتایا تھا کہ وہ حملہ آور ہے اور خود کو ایک ایسے سپاہی کے طور پر پیش کیا تھا جس نے مبینہ طور پر "دوسرا رخ اختیار کر لیا تھا”، تاکہ فوجیوں کو افغانستان جانے اور مسلمانوں کو نقصان پہنچانے سے روکا جا سکے۔
صدر ٹرمپ کی اس منظوری کے بعد اس سزائے موت پر عمل درآمد کے لیے قانونی اور ضابطہ جاتی مراحل کا آغاز ہو گیا ہے، تاہم قانونی ماہرین کے مطابق ندال حسن سول وفاقی عدالتوں میں ‘ہیبیئس کارپس’ (habeas corpus) کی اپیل دائر کر کے اس عمل کو کئی سالوں کے لیے مؤخر بھی کر سکتے ہیں۔
امریکی فوجی نظامِ عدل میں سزائے موت کے فیصلے انتہائی نایاب ہیں اور ان پر عمل درآمد اس سے بھی زیادہ نادر رہا ہے۔ اس وقت کینساس کے فورٹ لیوین ورتھ میں فوجی ڈیتھ رو پر چار افراد قید ہیں۔ امریکہ میں آخری بار فوجی نظام کے تحت سزائے موت پانے والے شخص پرائیویٹ جان بینیت تھے، جنہیں 1961 میں ایک بچی کے اغوا اور زیادتی کے جرم میں پھانسی دی گئی تھی۔ ٹرمپ انتظامیہ اپنے دورِ حکومت میں وفاقی سطح پر سزائے موت کو دوبارہ فعال کرنے اور سب سے زیادہ سزائیں دینے والی انتظامیہ کے طور پر جانی جاتی ہے۔
فورٹ ہڈ فائرنگ کیس:آرمی میجر ندال ملک حسن کو فائرنگ اسکواڈ کے ذریعے سزائے موت دینےکی منظوری

