اسلام آباد / لاس اینجلس:پاکستان نے عالمی سطح پر ایک اور بڑا اعزاز اپنے نام کرتے ہوئے نامور ہدایت کار محمد علی نقوی کی سنسنی خیز دستاویزی فلم ’ہینگنگ بائے اے وائر‘ (Hanging by a Wire) کو 99ویں اکیڈمی ایوارڈز (آسکر) کی ’انٹرنیشنل فیچر فلم‘ کیٹیگری کے لیے پاکستان کی باضابطہ نمائندہ فلم کے طور پر منتخب کر لیا ہے۔ امریکی جریدے ’ورائٹی‘ کے مطابق، یہ پہلا موقع ہے کہ اس اہم کیٹیگری کے لیے کسی دستاویزی تھرلر فلم کو پاکستان کی نمائندگی کا شرف حاصل ہوا ہے۔
پاکستان اکیڈمی سلیکشن کمیٹی کی ڈپٹی چیئرپرسن ثنا زہرا جعفری نے اس تاریخی انتخاب کا اعلان کرتے ہوئے اسے پاکستانی دستاویزی سنیما کے لیے ایک سنگِ میل قرار دیا ہے۔ یہ فلم اگست 2023 میں خیبرپختونخوا کے علاقے بٹگرام میں پیش آنے والے اس دل دہلا دینے والے واقعے پر مبنی ہے جب ایک تار ٹوٹنے کے باعث چیئر لفٹ 900 فٹ گہری کھائی کے اوپر معلق ہو گئی تھی، جس میں 6 بچوں سمیت 8 افراد پھنس گئے تھے۔ اس سنسنی خیز اور طویل ریسکیو آپریشن کو پوری دنیا نے سانس روکے دیکھا تھا۔
فلم میں حادثے کے چشم دید گواہوں، بچ جانے والے معجزاتی کرداروں اور جان ہتھیلی پر رکھ کر ریسکیو آپریشن میں حصہ لینے والے بہادر افراد کے انٹرویوز اور حقیقی مناظر کو فنکارانہ انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ اس فلم کی ہدایت کاری، تحریر اور پروڈکشن کے فرائض محمد علی نقوی اور بلال سمی نے انجام دیے ہیں۔ سن 2026 کے سن ڈانس فلم فیسٹیول میں ورلڈ پریمیئر کے بعد اسے ٹرائی بیکا فلم فیسٹیول میں بھی بے پناہ سراہا گیا، اور یہ 28 اکتوبر کو مشہور اسٹریمنگ پلیٹ فارم ’پیراماؤنٹ پلس‘ پر بھی ریلیز کی جا رہی ہے۔
واضح رہے کہ پاکستان 1959 سے اب تک اس کیٹیگری میں اپنی فلمیں بھیجتا آیا ہے، تاہم اب تک کسی بھی پاکستانی فلم کو حتمی آسکر نامزدگی نہیں مل سکی۔ البتہ سال 2022 میں صائم صادق کی فلم ’جوائے لینڈ‘ وہ واحد پاکستانی فلم تھی جو اس کیٹیگری کی شارٹ لسٹ تک پہنچنے میں کامیاب رہی تھی۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ بٹگرام کے معلق بچوں اور ریسکیو اہلکاروں کی یہ سچی کہانی آسکر کے حتمی مراحل میں کیا نیا تاریخی باب رقم کرتی ہے۔

