تہران :ایران کے پاسدارانِ انقلاب کی القدس فورس کی جانب سے جاری ہونے والے ایک حالیہ بیان میں کہا گیا ہے کہ ’انھوں نے مُلک کے اہم صوبے سیستان بلوچستان میں حالیہ حملوں میں ملوث ایک ’دہشت گرد گروہ‘ کا سراغ لگا کر اسے ختم کر دیا ہے۔‘
ایرانی سرکاری خبر رساں ادارے ارنا نے القدس فورس کے تعلقاتِ عامہ کے حوالے سے بتایا ہے کہ ’اس کارروائی کے نتیجے میں گروہ کے دو ارکان مارے گئے جبکہ باقی افراد کی تلاش جاری ہے۔‘
پاسدارانِ انقلاب کے مطابق یہ ’تکفیری گروہ‘ اس سے قبل بلوچ سنی رکن عبدالرؤف اسحاقی کو قتل کرنے کے علاوہ راسک شہر میں ایک چیک پوسٹ پر بھی حملہ کر چکا ہے۔
جمعرات کو ایرانی خبر رساں اداروں نے بتایا تھا کہ ’سیستان بلوچستان کے شہر راسک میں ایک چیک پوسٹ پر مسلح حملے کے دوران ایک پولیس اہلکار ہلاک ہو گیا تھا۔‘
ایران کے اس اہم صوبے سیستان بلوچستان کی سرحدیں پاکستان اور افغانستان سے ملتی ہیں اور یہ صوبہ طویل عرصے سے سکیورٹی کے مسائل کا سامنا کر رہا ہے، جن میں مسلح گروہوں کے حملے اور منشیات و سامان کے سمگلروں کے ساتھ جھڑپیں شامل ہیں۔
حالیہ مہینوں میں ان واقعات میں اضافہ ہوا ہے اور زاہدان، مہرستان اور سراوان میں مہلک جھڑپوں کی اطلاعات بھی بارہا سامنے آتی رہی ہیں۔
سیستان بلوچستان میں دہشت گرد گروہ کیخلاف پاسداران انقلاب کا آپریشن، 6ہلاک

