لاہور:وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ صوبے کے سیاسی مسائل کے حل کے لیے سیاسی قوتوں سے مذاکرات کے دروازے کھلے ہیں، تاہم ریاست کے خلاف ہتھیار اٹھانے والوں سے مذاکرات نہیں کیے جا سکتے۔
لاہور میں نیشنل سکول آف پبلک پالیسی کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ بلوچستان کا بنیادی مسئلہ پسماندگی نہیں بلکہ ’غلط بیانیہ‘ ہے، اور صوبے کے حالات کو سمجھنے کے لیے حقائق اور تصورات میں فرق کرنا ضروری ہے۔
وزیر اعلیٰ کا کہنا تھا کہ پسماندگی پاکستان کے تمام صوبوں میں کسی نہ کسی شکل میں موجود ہے، تاہم اس بنیاد پر کہیں بھی ریاست کے خلاف ہتھیار اٹھانے یا ریاست کو ختم کرنے کی بات نہیں کی جاتی۔
میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ بلوچستان کو پاکستان سے الگ کرنے کا خواب کبھی پورا نہیں ہو سکتا اور آئین کا آرٹیکل پانچ ریاست سے غیر مشروط وفاداری کا تقاضا کرتا ہے۔
ان کے بقول نوجوان نسل اور ریاست کے درمیان فاصلے کم کرنے کے لیے حکومت مختلف سطحوں پر نوجوانوں سے رابطے میں ہے اور ان کی بات سن رہی ہے۔
انھوں نے کہا کہ بلوچستان کے مسائل کو تاریخی تناظر اور حقائق کی بنیاد پر سمجھنے کی ضرورت ہے کیونکہ غلط بیانیے کی بنیاد پر صوبے کی صورتحال کا درست تجزیہ ممکن نہیں۔
وزیر اعلیٰ نے بلوچستان کے پاکستان کے ساتھ الحاق کے حوالے سے بھی تاریخی حقائق کو مد نظر رکھنے کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ خان آف قلات نے اپنی کتاب میں خود لکھا ہے کہ بلوچستان کا الحاق ان کی رضا مندی سے ہوا تھا۔
