Benaqab News | Welcome to Benaqab News Network
    Facebook Twitter Instagram
    Benaqab News | Welcome to Benaqab News NetworkBenaqab News | Welcome to Benaqab News Network
    • ہوم
    • اہم ترین
    • پاکستان
    • شہر شہر کی خبریں
    • دنیا کی خبریں
    • صحت
    • انٹرٹینمنٹ
    • کھیل
    • بزنس
    • ٹیکنالوجی

      اے آئی ٹیکنالوجی انسانی وجود کے لیے خطرہ: سیکیورٹی ریسرچ کمپنی ‘انتھروپک’ کا سنسنی خیز دعویٰ

      ’ستھرا پنجاب‘ پروگرام: قصور، فیصل آباد اور اوکاڑا کے ایم ڈی کارکردگی بہتر نہ ہونے پر ہٹا دیے گئے، وزیراعلیٰ مریم نواز کا سخت نوٹس

      اوپن اے آئی کا چیٹ جی پی ٹی کا نیا ماڈل لانچ کرنے کا فیصلہ واپس ، وجہ کیا بنی؟

      مصنوعی ذہانت (AI) ایک ارب انسانوں کو موت کے منہ میں دھکیل سکتی ہے: بل گیٹس کی وارننگ

      لانگ مارچ، اسلام آباد سیف سٹی کیمروں کو نقصان پہنچانے پر 20 لاکھ جرمانہ، آرڈیننس جاری

    • بلاگ
    • ویڈیوز

        بھٹ شاہ رورل ہیلتھ سینٹر کی  غفلت سے خاتون اور نومولود جاں بحق

      جشنِ آزادی کے سلسلے میں ضلع بھر میں مختلف تقریبات کا سلسلہ جاری

      ہیومین ویلفیئر آرگنائزیشن پاکستان کے زیر اہتمام ریلی نکالی گئی

      عالمگیر ویلفیئر ٹرسٹ اور جامع مدرسہ منصورہ ہالا کے مشترکہ تعاون سے مفت میڈیکل کیمپ کا انعقاد

      جشنِ آزادی کے سلسلے میں مغل ویلفیئر اتحاد ہالا کی جانب سے ریلی نکالی گئی

    Benaqab News | Welcome to Benaqab News Network

    گردے میں آکسیلیٹ اور انفیکشن کی پتھری کے بڑھتے کیسز، ماہرین نے وجوہات اور علاج بتا دیا

    Facebook Twitter LinkedIn WhatsApp
    Share
    Facebook Twitter Email WhatsApp

    آج کل ناقص طرز زندگی اورغذائی عادات کی وجہ سے لوگوں میں گردے کی پتھری کا خطرہ مسلسل بڑھ رہا ہے۔

    گردے میں آکسیلیٹ اور انفیکشن سے بننے والی پتھری کے کیسز میں مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ دونوں اقسام کی پتھری کو انتہائی سخت اور پیچیدہ سمجھا جاتا ہے، جن کا بروقت اور درست علاج نہایت ضروری ہے۔ گردے میں کیلشیم آکسیلیٹ اور انفیکشن سے بننے والی پتھری کا علاج اس کے حجم، نوعیت اور شدت کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا جاتا ہے۔ جدید طبی تکنیکوں کی مدد سے ان کا علاج ممکن ہے، تاہم انفیکشن سے بننے والی پتھری کے دوبارہ ہونے کے امکانات کے باعث اس کا علاج نسبتاً زیادہ پیچیدہ ہوسکتا ہے۔

    ممبئی کے سیفی اسپتال کی کنسلٹنٹ یورولوجسٹ ڈاکٹر سونی مہتا کے مطابق، آکسیلیٹ کی پتھری انتہائی سخت ہوتی ہے۔ یہ اس وقت بنتی ہے جب جسم میں کیلشیم، آکسیلیٹ، سسٹین یا فاسفیٹ کی مقدار بڑھ جاتی ہے۔ کیلشیم آکسیلیٹ مونوہائیڈریٹ کی پتھری انسانی جسم میں بننے والی سخت ترین پتھریوں میں شمار ہوتی ہے۔ یہ گردے کے اندرونی حصے، یعنی کیلیسیئل سسٹم، کی ساخت کے مطابق پھیل سکتی ہے اور بعض اوقات اتنی بڑی ہوجاتی ہے کہ اس کی شکل ہرن کے سینگ جیسی دکھائی دینے لگتی ہے۔

    اس قسم کی پتھری انتہائی سخت ہونے کی وجہ سے بعض اوقات عام لیتھوٹرپسی، یعنی شاک ویو تھراپی، یا معیاری لیزر ٹریٹمنٹ کے ذریعے بھی آسانی سے توڑی نہیں جاسکتی۔

    دوسری جانب، انفیکشن سے بننے والی پتھری بنیادی طور پر پیشاب کی نالی میں انفیکشن کے نتیجے میں بنتی ہے۔ یہ ذیابیطس کے مریضوں یا طویل عرصے سے انفیکشن کا شکار افراد میں زیادہ عام ہوسکتی ہے۔ ایسی پتھری کی وجہ سے گردے میں پیپ جمع ہوسکتی ہے اور بعض صورتوں میں سیپسس جیسی جان لیوا پیچیدگیاں بھی پیدا ہوسکتی ہیں۔ خصوصاً ذیابیطس کے مریضوں میں ان پیچیدگیوں کے پیش نظر ایسی پتھری کے علاج کے لیے خاص مہارت اور احتیاط کی ضرورت ہوتی ہے۔

    ڈاکٹر سونی مہتا کا کہنا ہے کہ گزشتہ چند برسوں کے دوران یورولوجسٹ گردے کی پیچیدہ پتھری کے زیادہ کیسز دیکھ رہے ہیں۔ اس کی کئی وجوہات ہیں، جن میں درج ذیل عوامل اہم ہیں:

    پانی کی کمی: بھارت میں پانی کی کمی گردے میں پتھری بننے کی ایک اہم وجہ ہے۔ گرم موسم اور زیادہ پسینہ آنے کی صورت میں جسم کو مناسب مقدار میں پانی اور دیگر سیال کی ضرورت ہوتی ہے۔

    غذا: آکسیلیٹ سے بھرپور غذائیں، جیسے بعض ہری پتوں والی سبزیاں، خشک میوے اور چاکلیٹ، جبکہ زیادہ نمک، چینی اور حیوانی پروٹین کا استعمال بھی پتھری بننے کے خطرے میں اضافہ کرسکتا ہے۔ عام ہندوستانی غذا میں نمک کا زیادہ استعمال اور پانی کی کم مقدار خاص تشویش کا باعث ہے۔

    جینیاتی عوامل: خاندان میں گردے کی پتھری کی تاریخ موجود ہونے سے بھی اس بیماری کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔

    طبی بیماریاں: ذیابیطس، موٹاپا، گاؤٹ، ہائپرپیرا تھائیرائڈزم، دائمی اسہال، آنتوں کی سوزش کی بیماری، جیسے کروہن ڈیزیز، اور پیشاب کی نالی کا انفیکشن بھی گردے میں پتھری کے خطرے کو بڑھا سکتے ہیں۔

    طرزِ زندگی: کم جسمانی سرگرمی، بہت زیادہ شراب نوشی اور بعض ادویات، مثلاً ڈائیوریٹکس، بھی پتھری بننے کے خطرے میں اضافہ کرسکتی ہیں۔

    گردے کی پتھری کا علاج مشکل کیوں ہوتا جارہا ہے؟

    ماہرین کے مطابق کھانے پینے کی عادات میں تبدیلی، پانی کی کمی اور انتہائی سخت کیلشیم کی پتھری بننے کے باعث گردے کی پتھری کا علاج بعض مریضوں میں مشکل ہوتا جارہا ہے۔ جدید غیر جراحی طریقۂ علاج، جیسے ای ایس ڈبلیو ایل (ESWL) یا شاک ویو لیتھوٹرپسی، انتہائی سخت کیلشیم کی پتھری اور ایک سینٹی میٹر سے بڑی پتھری کے خلاف بعض اوقات مؤثر ثابت نہیں ہوتی۔

    پانی کی کمی سے گردے میں پتھری کا خطرہ کیسے بڑھتا ہے؟

    آج کل گردے میں پتھری بننے کے عمل کو سمجھنے کے لیے ’سولیوت-سالوینٹ تھیوری‘ کا استعمال کیا جاتا ہے۔ اس نظریے کے مطابق اگر پیشاب میں کرسٹل بنانے والے مادوں، جیسے آکسیلیٹ یا یورک ایسڈ، کی مقدار زیادہ اور پانی کی مقدار کم ہو تو پیشاب گاڑھا ہوجاتا ہے۔ اس صورت میں ان مادوں کی حل پذیری کم ہوجاتی ہے اور وہ جمع ہوکر تیزی سے پتھری کی شکل اختیار کرسکتے ہیں۔

    کیا زیادہ پراسیسڈ فوڈ، نمک اور پروٹین سے پتھری کا خطرہ بڑھتا ہے؟

    پراسیسڈ فوڈ میں بعض ایسے اجزا زیادہ مقدار میں ہوسکتے ہیں جو پتھری بننے کے خطرے کو بڑھاتے ہیں۔ اسی طرح زیادہ نمک اور حیوانی پروٹین کا استعمال بھی بعض اقسام کی پتھری کے خطرے میں اضافہ کرسکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق پروٹین سپلیمنٹس کا استعمال بھی فرد کی جسمانی ضرورت اور طبی حالت کو مدنظر رکھتے ہوئے ماہر غذائیت کے مشورے سے کیا جانا چاہیے۔

    کیا پھل، سبزیاں اور مناسب پانی پتھری سے بچاؤ میں مددگار ہیں؟

    ڈاکٹر سونی مہتا کے مطابق زیادہ مقدار میں پھل اور سبزیاں استعمال کرنے اور جسم میں پانی کی مناسب مقدار برقرار رکھنے سے گردے کی پتھری سے بچاؤ میں مدد مل سکتی ہے۔ پیشاب میں موجود بعض قدرتی اجزا، خصوصاً سائٹریٹ، پتھری بننے کے عمل کو روکنے میں مددگار ہوتے ہیں۔ پیشاب میں سائٹریٹ کی مقدار جتنی زیادہ ہو، بعض اقسام کی پتھری بننے کا امکان اتنا ہی کم ہوسکتا ہے۔

    اسی لیے غذا میں سائٹریٹ سے بھرپور غذائیں، خصوصاً ترش پھل، شامل کرنے کا مشورہ دیا جاتا ہے۔ جن مریضوں میں بار بار گردے کی پتھری بننے کا خطرہ ہوتا ہے، انہیں بعض اوقات ڈاکٹر سائٹریٹ سپلیمنٹس بھی تجویز کرتے ہیں۔

    ایک اور اہم عنصر خون میں یورک ایسڈ کی سطح ہے۔ یورک ایسڈ کے کرسٹل خود بھی پتھری بنا سکتے ہیں یا پہلے سے موجود پتھری کی سطح پر جمع ہوکر اسے مزید پیچیدہ بنا سکتے ہیں، جس سے علاج مشکل ہوسکتا ہے۔ یورک ایسڈ کی مقدار پر خاص طور پر حیوانی غذاؤں کے استعمال سمیت متعدد عوامل اثر انداز ہوتے ہیں۔

    Related Posts

    پیرس فیشن ویک: سرخ بال اور شاہانہ انداز، ایشوریہ رائے کے جلووں نے سب کو سحر زدہ کر دیا

    پاکستان میں رواں سال میں پولیو کے پانچویں کیس کی تصدیق

    آبنائے ہرمز ، ایران نے جزائر میناب ،قشم کے ساحلوں سے دو بحری جہاز پکڑ لئے، 50 گرفتار، "یہ کون ہیں”?

    مقبول خبریں

    گردے میں آکسیلیٹ اور انفیکشن کی پتھری کے بڑھتے کیسز، ماہرین نے وجوہات اور علاج بتا دیا

    پیرس فیشن ویک: سرخ بال اور شاہانہ انداز، ایشوریہ رائے کے جلووں نے سب کو سحر زدہ کر دیا

    پاکستان میں رواں سال میں پولیو کے پانچویں کیس کی تصدیق

    آبنائے ہرمز ، ایران نے جزائر میناب ،قشم کے ساحلوں سے دو بحری جہاز پکڑ لئے، 50 گرفتار، "یہ کون ہیں”?

    ایران میں مہنگائی کا طوفان: ڈالر کی قیمت ڈھائی ملین ریال سے تجاوز کر گئی،

    بلاگ

    حکومت نہیں، فرسودہ نظام کی تبدیلی کی ضرورت

    اصولوں کی سیاست اور خیبر پختونخوا کا موجودہ سیاسی منظرنامہ

    کمالیہ کا شرمناک واقعہ: ایس ایچ او گرفتار،،، نگران افسران اور سیاسی پشتیبان کب کٹہرے میں آئیں گے؟

    سامارو میں عطائیت اور منشیات کی یلغار: ایک نوجوان کی موت یا معاشرتی قتل؟

    صاحب آباد تبلیغی مرکز میں پہلا تبلیغی اجتماع

    Facebook Twitter Instagram Pinterest
    • Disclaimer
    • Terms & Conditions
    • Contact Us
    • privacy policy
    Copyright © 2024 All Rights Reserved Benaqab Tv Network

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.