تہران: ایران میں شدید اقتصادی بحران اور کرنسی کی قدر میں گراوٹ کا سلسلہ جاری ہے، جہاں منگل کے روز آزاد مارکیٹ میں ڈالر کی قیمت پہلی بار 25 لاکھ (ڈھائی ملین) ریال سے بھی اوپر چلی گئی ہے۔
رپورٹس کے مطابق ایک روز قبل یعنی 28 ستمبر کو ڈالر نے 24 لاکھ 18 ہزار ریال کی ریکارڈ سطح چھوڑی تھی، تاہم محض 24 گھنٹوں سے بھی کم وقت میں اس میں 80 ہزار سے زائد ریال (یعنی 3 فیصد سے زیادہ) کا نمایاں اضافہ دیکھا گیا۔ غیر ملکی کرنسیوں کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے تناظر میں یورو کی قدر 27 لاکھ 70 ہزار ریال جبکہ برطانوی پاؤنڈ کی قیمت 32 لاکھ 30 ہزار ریال تک پہنچ گئی ہے۔
کرنسی کے اس تیزی سے گرتے ہوئے گراف نے پہلے ہی مہنگائی کے بوجھ تلے دبے عوام کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ خوراک، رہائش اور طبی سہولیات کی بڑھتی ہوئی لاگت کی وجہ سے عام گھرانوں کی قوتِ خرید شدید متاثر ہو رہی ہے۔ روپیہ کمزور ہونے سے خام مال، ادویات، طبی آلات اور روزمرہ استعمال کی اشیاء کی درآمدی لاگت مہنگی ہو رہی ہے، جس سے مقامی مارکیٹ میں قیمتیں آسمان کو چھونے لگی ہیں۔
ملازمین، پنشنرز اور فکسڈ انکم کمانے والے طبقے کی جانب سے بڑھتی ہوئی مہنگائی پر گہری تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ ان کی ماہانہ آمدنی اب بنیادی ضروریات پوری کرنے کے لیے بھی ناکافی ہو چکی ہے، اور روزانہ کی بنیاد پر بڑھتی ہوئی قیمتوں نے گھریلو بجٹ کا نظام درہم برہم کر دیا ہے۔
معاشی ماہرین کے مطابق بڑھتی ہوئی افراطِ زر، صنعتی پیداوار میں کمی، تجارتی پابندیوں، غیر ملکی کرنسی کی قلت اور رقوم کی ترسیل میں درپیش مشکلات کی وجہ سے کرنسی مارکیٹ انتہائی غیر مستحکم ہو چکی ہے۔ دوسری جانب، امریکا نے بھی حالیہ ہفتوں میں ایران کے مالیاتی وسائل پر دباؤ مزید بڑھا دیا ہے، جس میں بحری ناکہ بندی، تیل کی فروخت روکنے کی کوششیں اور تیل کی آمدنی کی ترسیل پر عائد پابندیاں شامل ہیں۔
اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے ایرانی حکام نے کرنسی اور گولڈ مارکیٹ میں مبینہ مداخلت یا بگاڑ پیدا کرنے والوں کے خلاف کریک ڈاؤن تیز کر دیا ہے۔ وزارتِ معیشت کے فنانشل انٹیلی جنس سینٹر کے مطابق غیر سرکاری کرنسی اور سونے کی مارکیٹوں میں مشکوک سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے الزام میں مزید 45 افراد کے بینکنگ اکاؤنٹس اور خدمات معطل کر دی گئی ہیں، جس کے بعد ایسے پابندی کا شکار ہونے والے افراد کی مجموعی تعداد 214 ہو گئی ہے۔ تاہم حکام کی جانب سے تاحال ان افراد کے نام یا ان کے خلاف شواہد عام نہیں کیے گئے۔
ایران میں مہنگائی کا طوفان: ڈالر کی قیمت ڈھائی ملین ریال سے تجاوز کر گئی،

