عمرکوٹ (رپورٹ: بیورو چیف ڈاکٹر ایم لال واگھانی)
سامارو اور سندھ کے مختلف علاقوں میں 2022ء کے تباہ کن سیلاب سے متاثرہ شہریوں کے لیے گھروں کی تعمیر کا منصوبہ تاحال مکمل نہ ہونے پر مقامی آبادی میں شدید تشویش اور بے چینی پھیل گئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق، 2022ء کے سیلاب کے بعد سندھ ہاؤسنگ اینڈ پروجیکٹ مینجمنٹ اتھارٹی (SPHF) کے تحت متاثرین کے لیے مکانات کی تعمیر کا منصوبہ شروع کیا گیا تھا۔ اس موقع پر ادارے کے اُس وقت کے چیف ایگزیکٹو خالد محمود شیخ کی جانب سے 5 سال کے اندر تمام گھروں کی تعمیر مکمل کرنے کی یقین دہانی کرائی گئی تھی۔
سامارو تعلقہ کے مختلف دیہاتوں جیسے بچابند، راہو آباد، حنیف آباد، اور صالح بھنبھرو سمیت گردونواح کے رہائشیوں کا کہنا ہے کہ متعدد مقامات پر تعمیری کام سرے سے شروع ہی نہیں ہو سکا، جبکہ جن علاقوں میں کام شروع ہوا تھا وہ بھی ادھورا پڑا ہے۔ متاثرین کے مطابق حکومتِ سندھ کی جانب سے فنڈز کی بروقت فراہمی نہ ہونا اس تاخیر کی بنیادی وجہ ہے۔
دوسری جانب خالد محمود شیخ کی طرف سے یہ دعویٰ سامنے آیا ہے کہ منصوبے کے تحت تقریباً ساڑھے 10 لاکھ گھروں کا کام مکمل کیا جا چکا ہے۔ تاہم مقامی متاثرین نے اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے سوالات اٹھائے ہیں اور مطالبہ کیا ہے کہ سامارو اور ملحقہ علاقوں میں جاری منصوبوں کی پیش رفت اور فنڈز کے شفاف استعمال کی تفصیلی معلومات عوام کے سامنے لائی جائیں۔
متاثرینِ سیلاب نے حکومتِ سندھ اور متعلقہ اداروں سے فوری نوٹس لینے کی اپیل کی ہے کہ تمام زیرِ تعمیر اور غیر فعال منصوبوں کا ہنگامی بنیادوں پر جائزہ لیا جائے تاکہ باقی ماندہ تعمیری کام جلد از جلد مکمل ہو سکے۔





