جی ہاں، ماں کے پیٹ میں موجود بچہ فاسد مادوں اور مائع فضلے کا اخراج کرتا ہے، تاہم ٹھوس فضلہ (پاخانہ) معمول کی حالت میں پیدائش سے پہلے خارج نہیں ہوتا۔
بچے کے جسم سے فضلے کے اخراج کا نظام درج ذیل تین طریقوں سے کام کرتا ہے:
-
مائع فضلہ / پیشاب: حمل کے تقریباً 11 سے 14 ویں ہفتے میں بچے کے گردے کام کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ بچہ پیشاب کا اخراج اپنے اردگرد موجود ایمنیوٹک فلوئڈ (Amniotic Fluid) کی تھیلی میں کرتا ہے۔ بچہ اس سیال کو نگلتا ہے اور پھر پیشاب کے ذریعے دوبارہ خارج کرتا ہے، جس سے اس کے گردے، مثانہ اور نظام ہضم صحیح طور پر نمو پاتے ہیں۔
-
میٹابولک فضلہ اور کاربن ڈائی آکسائیڈ: بچے کے خون میں بننے والی کاربن ڈائی آکسائیڈ، یوریا اور دیگر فاسد مادے پلاسنٹا (Placenta / نال) کے ذریعے ماں کے خون میں منتقل ہوتے ہیں۔ ماں کے گردے اور پھیپھڑے ان فاسد مادوں کو اپنے جسم کے قدرتی نظام کے ذریعے باہر نکال دیتے ہیں۔
-
ٹھوس فضلہ (Meconium): بچے کو غذائیت براہِ راست ماں کے خون سے ملتی ہے، اس لیے عام معنوں میں ہاضمے کا ٹھوس فضلہ نہیں بنتا۔ تاہم، آنتوں کے مردہ خلیات اور ایمنیوٹک فلوئڈ کے نگلنے سے آنتوں میں ایک گہرے سبز/سیاہ رنگ کا چمکدار مواد جمع ہوتا ہے جسے میکونیم (Meconium) کہتے ہیں۔ معمول کے مطابق بچہ یہ فضلہ پیدائش کے بعد پہلے 24 سے 48 گھنٹوں کے اندر خارج کرتا ہے۔
اگر دورانِ حمل بچے کو آکسیجن کی کمی یا کسی قسم کی تکلیف (Fetal Distress) کا سامنا ہو یا پیدائش کی مقررہ تاریخ گزر جائے، تو بچہ پیٹ کے اندر ہی میکونیم خارج کر سکتا ہے، جسے ڈاکٹر طبی لحاظ سے حساس صورتحال مانتے ہوئے فوری توجہ دیتے ہیں۔

