سول ایٹمی معاہدے کے باوجود سعودی عرب کا ایٹمی صلاحیت کے حصول کا راستہ برقرار مشرق وسطیٰ میں ایٹمی دوڑ کا خدشہ: امریکی کانگریس کو پیش کی گئی کلاسیفائیڈ رپورٹ نے تشویش بڑھا دی
واشنگٹن (نیوز ڈیسک)
امریکی کانگریس کو پیش کی جانے والی ایک خفیہ امریکی انٹیلی جنس رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ سعودی عرب نے جوہری ہتھیار تیار کرنے کا آپشن مکمل طور پر ختم نہیں کیا ہے اور وہ اپنے دفاعی ایٹمی پروگرام کا راستہ کھلا رکھے ہوئے ہے۔ امریکی ذرائع ابلاغ کے مطابق یہ جائزہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب واشنگٹن اور ریاض کے درمیان رواں برس جولائی میں دوطرفہ سول نیوکلیئر معاہدہ طے پایا تھا۔ اس معاہدے کے تحت امریکی کمپنیاں سعودی عرب کے سویلین ایٹمی انفرادی ڈھانچے کی تعمیر میں حصہ لیں گی اور مخصوص شرائط کے تحت 20 فیصد تک یورینیم افزودگی کے فریم ورک پر غور کیا جائے گا۔ امریکی کانگریس اور ڈیموکریٹک قانون سازوں کی جانب سے اس کلاسیفائیڈ رپورٹ پر شدید تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ سینیٹرز کا کہنا ہے کہ اس قدم سے مشرق وسطیٰ میں ایٹمی دوڑ تیز ہو سکتی ہے، بالخصوص ایران کے تناظر میں خطے کا توازن متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان ماضی میں بھی متعدد بار یہ واضح کر چکے ہیں کہ اگر ایران جوہری ہتھیار حاصل کرتا ہے تو سعودی عرب بھی اپنے تحفظ کے لیے فوری طور پر ایٹمی صلاحیات حاصل کرے گا۔ دوسری جانب امریکی وزارت خارجہ اور سعودی وزیر توانائی شہزادہ عبدالعزیز بن سلمان نے وضاحت جاری کی ہے کہ سعودی عرب کا جوہری پروگرام مکمل طور پر پرامن سویلین مقاصد کے لیے ہے اور اسے اعلیٰ ترین بین الاقوامی شفافیت اور سیکیورٹی ضوابط کے تحت چلایا جا رہا ہے۔

