بارسلونا / لیدا: اسپین کے شہر لیدا (Lleida) کی انتظامیہ نے عوامی مقامات پر چہرہ مکمل طور پر چھپانے والے ملبوسات، بالخصوص برقع اور نقاب پر پابندی کی نئی قانون سازی کی منظوری دے دی ہے۔ اسپین کے شمال مشرقی علاقے کاتالونیا (Catalonia) میں واقع ڈیڑھ لاکھ آبادی والے اس صوبائی دارالحکومت میں سٹی کونسل کے اجلاس کے دوران بلدیاتی قانون میں اس ترمیم کی منظوری 16 کے مقابلے میں 11 ووٹس سے دی گئی۔
نئے ضابطہ اخلاق آرڈیننس کے تحت عوامی مقامات پر ایسا کوئی بھی لباس پہننے یا گھومنے پھرنے پر پابندی ہوگی جو چہرے کو مکمل طور پر چھپاتا ہو۔ قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کے لیے 400 سے 750 یورو تک کے نقد جرمانے مقرر کیے گئے ہیں۔
اس قانون کے تحت عبادت گاہوں، سماجی روایات کے مطابق عام حالات، یا بنیادی آئینی حقوق کے استعمال کے دوران چہرہ ڈھانپنے پر یہ پابندی لاگو نہیں ہوگی۔ واضح رہے کہ لیدا شہر نے سب سے پہلے 2010 میں بھی اس قسم کی پابندی عائد کی تھی، تاہم سال 2013 میں اسپین کی سپریم کورٹ نے مسلم تنظیموں کی اپیل پر مذہبی آزادی کا حوالہ دیتے ہوئے اس مقامی فیصلے کو کالعدم قرار دے دیا تھا۔
اسپین: شہر لیدا میں عوامی مقامات پر برقع اور نقاب پہننے پر پابندی عائد، خلاف ورزی پر بھاری جرمانہ

