ٹورنٹو / نئی دہلی:بعض فلمیں صرف تفریح کا ذریعہ نہیں ہوتیں بلکہ اپنے ساتھ ایک پوری تہذیب، زبان اور خطے کو دنیا کے سامنے لے آتی ہیں۔ بھارت کی شمال مشرقی ریاست ناگالینڈ کے نوجوان فلم ساز تھیجا ریو کی پہلی فیچر فلم ’انگھ‘ (Angh) نے کینیڈا میں جاری نامور ٹورنٹو انٹرنیشنل فلم فیسٹیول (TIFF) کے باوقار پلیٹ فارم پرائز جیت کر عالمی سنیما میں ہلچل مچا دی ہے۔ اس شاندار کامیابی نے نہ صرف ناگالینڈ کی منفرد کونیاک (Konyak) ثقافت کو بین الاقوامی نقشے پر اجاگر کیا ہے بلکہ یہ فلم اب سنہ 2027 کے اکیڈمی ایوارڈز (آسکر) کی دوڑ میں بھی شامل ہونے کے لیے اہل ہو گئی ہے۔
A historic moment for Indigenous cinema from India!
Theja Rio’s groundbreaking debut feature, ANGH, premieres at the Toronto International Film Festival in the prestigious Platform section bringing a bold and distinctive Naga voice to the global stage.#ANGH #TIFF2026 #Naga pic.twitter.com/qDtNQpBXep— NAGA HUNTER (@NAGAHUNTER64233) September 16, 2026
31 سالہ تھیجا ریو کی یہ پہلی فیچر فلم ایک ایسی کونیاک زبان میں بنائی گئی ہے جو خود بھارت کے 99 فیصد سے زیادہ لوگوں کے لیے بھی بالکل اجنبی ہے۔ فلم کی کہانی 1960 کی دہائی کے ناگالینڈ کے ایک دور افتادہ قبائلی گاؤں کی ہے، جہاں روایت اور جدیدیت آمنے سامنے ہیں۔ مقامی زبان میں ’انگھ‘ کا مطلب ’سربراہ‘ یا ’مکھیا‘ ہے۔ کہانی ایک عمر رسیدہ قبائلی سربراہ انگھبا کے گرد گھومتی ہے جو اپنی پرانی روایات سے جڑا رہنا چاہتا ہے، جبکہ ایک امریکی مشنری کی آمد اور مغربی اثرات اس معاشرے کو تیزی سے بدل رہے ہیں۔
اس فلم کی خاص بات اس کا روایتی اندازِ پیش کش ہے جسے 16 ایم ایم فلم پر عکس بند کیا گیا ہے تاکہ ناظرین کو ایک پرانی اور خام دنیا کا حقیقی احساس مل سکے۔ فلم میں مقامی ناگا فن کاروں کے علاوہ برطانوی اداکار اور بافٹا ایوارڈ یافتہ ڈگلس ہینشل نے بھی اداکاری کے جوہر دکھائے ہیں۔
اس سال ٹورنٹو فیسٹیول کے پلیٹ فارم مقابلے میں شامل یہ واحد بھارتی فلم تھی۔ جیوری نے فلم کے ترو تازہ نقطۂ نظر اور ایک ایسی دنیا کی طاقتور عکاسی کرنے پر بھرپور داد دی جس سے عالمی ناظرین عموماً ناواقف ہیں۔ فیسٹیول کے سربراہ کیمرون بیلی نے بھی اس کی انفرادیت کو سراہا۔ ایوارڈ وصول کرتے ہوئے ہدایت کار تھیجا ریو نے یہ اعزاز اپنے وطن کے لوگوں کے نام کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایک ایسی جگہ سے تعلق رکھتے ہیں جہاں خواب شاذ و نادر ہی حقیقت بنتے ہیں، مگر یہ تو محض شروعات ہے۔ یہ فلم اب ناگالینڈ کی شناخت کو دنیا بھر میں زندہ و جاوید کرنے کا ذریعہ بن گئی ہے۔

