امروہہ: اترپردیش کے امروہہ میں گینگ ریپ کے ایک واقعے کے بعد پولیس محکمے میں افرا تفری مچ گئی ہے۔ اتر پردیش کے حسن پور کوتوالی علاقے میں ایک 23 سالہ خاتون کو اجتماعی جنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کے الزام میں ایک پولیس سب انسپکٹر اور ایک کانسٹیبل اور سی آر پی ایف کے دو اہلکاروں کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔
ملزمان کے خلاف یہ کارروائی اس وقت شروع کی گئی جب متاثرہ خاتون نے پولیس اسٹیشن میں شکایت درج کرائی جس میں الزام لگایا گیا کہ منگل کی دیر رات ان پولیس اور سی آر پی ایف اہلکاروں نے اس کی اجتماعی آبرو ریزی کی۔
تفصیلات کے مطابق خاتون نے اپنی شکایت میں الزام لگایا کہ سی آر پی ایف کے دو اہلکار اسے میرٹھ سے حسن پور لائے۔ حسن پور کوتوالی حلقے میں، دونوں اہلکاروں نے اپنے واقف کار سب انسپکٹر اور کانسٹیبل کے ساتھ مل کر، اسے ایک مذہبی مقام پر لے جانے کے بہانے سے اپنے پاس رکھا اور مبینہ طور پر اس کی اجتماعی آبرو ریزی کی۔
معاملے کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے پولیس نے مقدمہ درج کر کے ملزم اہلکاروں کو گرفتار کر لیا۔ گرفتار شدگان کی شناخت سب انسپکٹر سنجے تومر اور کانسٹیبل پرمود (دونوں حسن پور کوتوالی تھانے میں تعینات ہیں) کے طور پر ہوئی ہے۔ جب کہ سی آر پی ایف کے دو اہلکاروں کی شناخت ابھی ظاہر نہیں کی گئی ہے۔
جہاں اس واقعے نے پولیسنگ اور سکیورٹی انتظامات پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں، وہیں حکام کا کہنا ہے کہ الزامات کی تصدیق تحقیقات اور عدالتی عمل کے ذریعے ہی ہوگی۔
امروہہ کے ایڈیشنل ایس پی اکھلیش بھدوریا نے بتایا کہ ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا ہے اور تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ "خاتون کو میرٹھ سے حسن پور لانے سے لے کر مبینہ جرم تک، واقعات کے تسلسل میں ہر فرد کے مخصوص کردار کو واضح کرنے کے لیے تفصیلی تفتیش جاری ہے۔ فی الوقت چاروں ملزمان پولیس کی حراست میں ہیں۔”

