لندن:انگلینڈ کرکٹ ٹیم کے مایہ ناز اور انتہائی تیز رفتار فاسٹ بولر مارک ووڈ (Mark Wood) نے مسلسل انجریز سے طویل جنگ کے بعد 36 سال کی عمر میں بین الاقوامی کرکٹ کو خیرباد کہہ دیا ہے۔ اپنے مخصوص جارحانہ انداز اور خوفناک باؤنسرز سے دنیا بھر کے بلے بازوں کو پریشان کرنے والے ووڈ کا کیریئر شاندار کامیابیوں اور یادگار فتوحات سے مزین رہا ہے۔
Fast and furious 🚀
Our Rocketman! ❤️
Thank you, Woody 🙏 pic.twitter.com/uCQAgA3BA3
— England Cricket (@englandcricket) September 22, 2026
مارک ووڈ نے اپنے شاندار کیریئر کے دوران انگلینڈ کی جانب سے تینوں فارمیٹس میں مجموعی طور پر 146 میچز کھیلے اور 253 وکٹیں اپنے نام کیں، جن میں 38 ٹیسٹ میچوں میں حاصل کردہ 119 وکٹیں بھی شامل ہیں۔ انہوں نے 2015 میں انگلینڈ کی طرف سے بین الاقوامی ڈیبیو کیا اور اسی سال مشہور ایشیز سیریز جیتنے والی ٹیم کا حصہ بنے۔ اس کے علاوہ وہ انگلینڈ کی تاریخ کے ان چند خوش نصیب کھلاڑیوں میں شامل ہیں جو 2019 کے ون ڈے ورلڈ کپ اور 2022 کے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کی فاتح اسکواڈز کا حصہ رہے، جہاں انہوں نے اپنی شاندار بولنگ سے ٹیم کی فتوحات میں اہم کردار ادا کیا۔
A lion through and through 🦁 pic.twitter.com/CSs50KhoKB
— England Cricket (@englandcricket) September 22, 2026
انجریز سے تنگ آ کر کیریئر کو الوداع کہا
مارک ووڈ کا کیریئر طویل عرصے سے فٹنس کے مسائل کا شکار رہا ہے۔ 2025 کی چیمپئنز ٹرافی کے دوران گھٹنے کی شدید انجری کے باعث انہیں سرجری کرانا پڑی، اور حال ہی میں ایشیز کے پہلے ٹیسٹ میں شاندار واپسی کے باوجود وہ ایک بار پھر فٹنس مسائل کی نذر ہو گئے۔
Mark Wood has announced his retirement from international cricket
He always gave everything for the Three Lions, on and off the field 🦁
What a career, what a player 🙌 pic.twitter.com/d9keObjqbt
— England Cricket (@englandcricket) September 22, 2026
ریٹائرمنٹ کا اعلان کرتے ہوئے مارک ووڈ کا کہنا تھا کہ لگاتار انجریز اور بحالی کے مراحل سے گزرنا انہیں ذہنی اور جسمانی طور پر تھکا چکا تھا، اور یہی وقت ہے کہ وہ بین الاقوامی کرکٹ سے کنارہ کش ہو جائیں۔ تاہم، انہوں نے واضح کیا کہ وہ مکمل طور پر کرکٹ سے الگ نہیں ہو رہے بلکہ کاؤنٹی ٹیم ڈرہم (Durham) کے لیے ٹی ٹوئنٹی بلاسٹ اور دنیا بھر کی فرنچائز لیگز میں اپنی صلاحیتوں کا جوہر دکھاتے رہیں گے، جبکہ مستقبل میں وہ کوچنگ اور براڈکاسٹنگ کے شعبے سے بھی وابستہ ہونے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

