اسلام آباد:وفاقی تحقیقاتی ادارے (FIA) کے اینٹی کرپشن سرکل (ACC) اسلام آباد نے آبپارہ کے علاقے میں ایک بڑی کارروائی کرتے ہوئے وزارتِ خارجہ (MOFA) کے افسران کی ملی بھگت سے چلنے والے جعلی اپوسٹل (Apostille) اسٹیکرز، سرکاری مہروں اور جعلی دستاویزات کے گھناؤنے فراڈ نیٹ ورک کا پردہ چاک کر دیا ہے۔
ایف آئی اے حکام کے مطابق، ایف اینڈ ایف پلازہ آبپارہ کے بیسمنٹ میں قائم مختلف کنسلٹنسی اور کورئیر دفاتر پر چھاپہ مار کر کل 22 ملزمان کے خلاف مقدمہ نمبر 48/2026 (بموجب دفعات 420، 468، 471، 109 پی پی سی اور پریونشن آف کرپشن ایکٹ) درج کر لیا گیا ہے۔
تحقیقات سے یہ خوفناک انکشاف ہوا ہے کہ اس غیر قانونی اور دھوکہ دہی کے نیٹ ورک میں نجی افراد کے علاوہ وزارتِ خارجہ کے 6 اہم افسران و اہلکار بھی براہِ راست ملوث پائے گئے ہیں، جن میں اے ڈی / اے پی ایس اٹیسٹیشن، انچارج اپوسٹل اور دیگر عملہ شامل ہے۔
سینئیر صحافی زاہد گشکوری کی رپورٹ کے مطابق فراڈ میں ملوث پائے جانے والے نجی اداروں میں سوفی کنسلٹنٹس،ایکسیلنٹ کورئیر سروس (ECS)،لیوپرڈ کورئیر سروسز (ایف اینڈ ایف پلازہ آبپارہ)،RAAK کنسلٹنسی،نون کنسلٹنٹس (پرائیویٹ) لمیٹڈ،GM کنسلٹنٹس،فیئر لائن سروس کے مالکان و ملازمین شامل ہیں۔
ابتدائی تفتیش کے مطابق ملزمان بیرون ملک جانے والے شہریوں کو اپوسٹل اور تصدیقی خدمات کم سے کم وقت میں دلانے کا جھانسہ دے کر لاکھوں روپے بٹورتے تھے۔ اس فراڈ کے لیے وزارتِ خارجہ کے ملوث افسران کو بھاری رشوت دی جاتی تھی تاکہ جعلی اپوسٹل اسٹیکرز اور مہریں جاری کی جا سکیں۔ یہ جعلی اسٹیکرز پورے ملک میں گردش کر رہے تھے، جس سے نہ صرف ملکی وقار کو دھچکا لگا بلکہ قومی خزانے کو بھی کروڑوں روپے کا نقصان پہنچنے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔ ایف آئی اے کی جانب سے مزید تفتیش جاری ہے اور اس مکروہ دھندے میں ملوث دیگر افراد کی گرفتاری کے لیے بھی چھاپے مارے جا رہے ہیں۔
اسلام آباد : ایف آئی اے کا چھاپہ،وزارتِ خارجہ کے افسران کی ملی بھگت سے چلنے والا جعلی اپوسٹل اسٹیکرز اور فراڈ نیٹ ورک بے نقاب،

