ریاض+دبئی+بحرین :مغربی ایشیا کی نازک صورت حال ایک بار پھر انتہائی کشیدہ ہو گئی ہے اور خطے میں سرگرمیاں بڑھنے کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں۔
خطرے کے اس ماحول میں ممکنہ اضافے کا پہلا اشارہ اس وقت ملا جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کیمپ ڈیوڈ میں صرف ایک رات قیام کے بعد سنیچر کی شام (مقامی وقت کے مطابق) وائٹ ہاؤس واپس لوٹ آئے۔ ٹرمپ نے اپنی چھٹیوں کا قیام مختصر کر کے واپس کام پر پہنچنے کا فیصلہ کیا۔
یہ پیش رفت ایران کی جانب سے واشنگٹن کے سامنے پیش کی گئی جنگ کے خاتمے اور مذاکرات شروع کرنے کے لیے سات شرائط رکھنے کے بعد سامنے آئی ہے۔ ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر اس کے مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو وہ ایک "فیصلہ کن جنگ” کے لیے پوری طرح تیار ہے۔
خطے بھر میں موجود امریکی سفارتی مشنز نے بھی سیکیورٹی الرٹس جاری کیے ہیں جن میں امریکی شہریوں کو صورتحال کے تیزی سے بگڑنے کے امکانات سے خبردار کیا گیا ہے۔
مغربی ایشیا کے متعدد ممالک میں امریکی سفارتخانوں نے فوری سکیورٹی وارننگ جاری کرتے ہوئے اپنے شہریوں پر زور دیا ہے کہ وہ سکیورٹی ہدایات پر عمل کریں۔ ان کا کہنا ہے کہ ’خطے میں پروازیں منسوخ ہونے کا امکان ہے۔‘
خطے کے کئی ممالک میں امریکی سفارتخانوں نے چند گھنٹے قبل یہ فوری سکیورٹی وارننگز جاری کیں اور اپنے شہریوں کو مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے باعث چوکس رہنے اور زیادہ احتیاط برتنے کی ہدایت کی۔
بغداد میں امریکی سفارتخانے نے خاص طور پر حوثیوں اور سعودی عرب کے درمیان حالیہ جھڑپوں کا حوالہ دیا، جن میں ’ہوائی اڈوں پر حملے‘ بھی شامل ہیں اور خبردار کیا کہ یہ تنازع تیزی سے بڑھ سکتا ہے۔
امریکی محکمہ خارجہ نے بھی ایک الگ وارننگ جاری کرتے ہوئے کہا کہ ’یمن میں سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان تنازع میں کشیدگی بڑھنے کا امکان موجود ہے۔‘
ٹرمپ ایمرجنسی میں کیمپ ڈیوڈ سےوائٹ ہاؤس واپس، مشرق وسطیٰ میں پروازیں منسوخ ہونے کاخدشہ، مغربی ممالک کا الرٹ

