-
- چین کا دارالحکومت ڈرون فری زون بنانے کی جانب گامزن، ڈرون مالکان سرکاری مراکز پر ڈیوائسز فروخت کرنے پر مجبور
-
بیجنگ: چینی دارالحکومت بیجنگ میں ڈرونز رکھنے اور ذخیرہ کرنے پر آئندہ عائد ہونے والی مکمل پابندی کے پیشِ نظر شہریوں اور ڈرون مالکان میں اپنے آلات بیچنے اور تلف کرنے کی دوڑ لگ گئی ہے۔
میونسپل حکام کی جانب سے جاری کردہ نئی سیکیورٹی ہدایات کے مطابق 15 نومبر سے بیجنگ کی حدود میں کسی بھی قسم کے تفریحی یا نجی ڈرون اور ان کے اہم حصوں کو پاس رکھنے، اسٹور کرنے یا دوسرے شہروں سے لانے پر مکمل پابندی ہوگی۔ قوانین کی خلاف ورزی پر بھاری جرمانے اور ڈرونز ضبط کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
حکومتی پابندی کے اطلاق سے قبل شہریوں کی سہولت کے لیے بیجنگ انتظامیہ نے مختلف مقامات پر "بائی بیک” (خریداری) اور ری سائیکلنگ کے خصوصی مراکز قائم کیے ہیں جہاں ڈرون مالکان کو سرکاری سبسڈی دی جا رہی ہے۔ کئی شہری اپنے قیمتی ڈرونز کو نقصان سے بچانے کے لیے دوسرے شہروں میں منتقل کر رہے ہیں یا حکومت کو فروخت کر رہے ہیں۔
واضح رہے کہ رواں سال جون میں ایک چھوٹے طیارے کے بیجنگ کی ایک بلند و بالا عمارت سے ٹکرانے کے بعد دارالحکومت کی فضائی حدود اور سیکیورٹی کو مزید سخت کیا جا رہا ہے، جس کے تحت بیجنگ کو مکمل طور پر ڈرون فری زون بنانے کے احکامات جاری کیے گئے ہیں۔
بیجنگ میں ڈرون رکھنے پر مکمل پابندی کا فیصلہ: نومبر کی ڈیڈ لائن سے قبل شہریوں کی ڈرونز بیچنے کی دوڑ

