تحریر: ریاض ابوالخیل
جہاں لفظ بے نقاب ہوں۔۔۔ وہیں سے سچ کا آغاز ہوتاہے
کوہاٹ پولیس لائنز کی مسجد میں نمازِ جمعہ کے دوران ہونے والا خودکش دھماکہ ایک بار پھر پوری قوم کے دل پر کاری ضرب لگا گیا۔ اس المناک سانحے میں کم از کم 16 افراد شہید جبکہ درجنوں زخمی ہوئے، جن میں پولیس اہلکار بھی شامل ہیں۔
یہ صرف ایک دھماکہ نہیں، یہ امن کے دعووں، ہماری حفاظتی تدابیر اور دہشت گردی کے خلاف ہماری مجموعی حکمتِ عملی پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔
آخر کب تک؟
کب تک نمازی اپنی جانوں کا خوف لے کر مسجد جائیں گے؟
کب تک پولیس اہلکار اپنی ہی پولیس لائنز کی مسجد میں بھی محفوظ نہیں ہوں گے؟
کب تک مائیں اپنے بیٹوں، بیویاں اپنے شوہروں اور بچے اپنے باپوں کی واپسی کا انتظار کرتے رہیں گے؟
یہ پہلا واقعہ نہیں۔ ماضی میں بھی پولیس، سکیورٹی فورسز اور عام شہریوں کو مساجد اور دیگر حساس مقامات پر دہشت گردی کا نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔ ہر بڑے سانحے کے بعد مذمتیں ہوتی ہیں، اجلاس ہوتے ہیں، تحقیقات کے اعلانات ہوتے ہیں، سکیورٹی مزید سخت کرنے کے دعوے کیے جاتے ہیں، مگر کچھ عرصے بعد پھر کوئی نیا سانحہ ہمارے سامنے کھڑا ہوتا ہے۔
سوال یہ ہے کہ ہم ہر بار حملے کے بعد جاگتے ہیں یا حملے سے پہلے بھی کچھ سوچتے ہیں؟
کوہاٹ کا واقعہ اس بات کا متقاضی ہے کہ حساس سرکاری تنصیبات، پولیس لائنز، عبادت گاہوں اور دیگر عوامی مقامات کی سکیورٹی کا ازسرِنو جائزہ لیا جائے۔ محض بلند دیواریں، ناکے اور چیک پوسٹیں کافی نہیں؛ جدید انٹیلی جنس، مؤثر نگرانی، داخلی و خارجی راستوں کی مکمل سکیورٹی اور دہشت گرد نیٹ ورکس کے خلاف بروقت کارروائی ناگزیر ہے۔
سب سے زیادہ تکلیف دہ پہلو یہ ہے کہ دہشت گردی نے اب عبادت گاہوں کو بھی نہیں بخشا۔ مسجد، جہاں انسان دنیاوی فکروں سے آزاد ہو کر اپنے رب کے حضور جھکتا ہے، اگر وہاں بھی خون بہنے لگے تو اس سے زیادہ المیہ اور کیا ہوگا؟
خانۂ خدا میں نمازیوں کا خون بہانا کسی بھی مذہب، اخلاق اور انسانیت کے اصولوں سے مطابقت نہیں رکھتا۔ جو لوگ عبادت میں مصروف انسانوں کو نشانہ بناتے ہیں، وہ دراصل صرف افراد نہیں بلکہ معاشرے کے امن، انسانیت اور مذہبی اقدار کو نشانہ بناتے ہیں۔
آج ہمیں صرف مذمت نہیں کرنی، بلکہ یہ سوال بھی اٹھانا ہوگا کہ اس آگ اور خون کے کھیل کو آخر کب روکا جائے گا؟
دہشت گردی کا مقابلہ صرف بندوق سے نہیں، بلکہ مضبوط ریاستی حکمتِ عملی، مؤثر انٹیلی جنس، عوامی تعاون، قومی یکجہتی اور قانون کی بلاامتیاز عمل داری سے کیا جا سکتا ہے۔ عوام اور سکیورٹی اداروں کے درمیان اعتماد اور تعاون کو مزید مضبوط کرنا ہوگا۔
ہم کوہاٹ کے شہداء کے اہلِ خانہ کے غم میں برابر کے شریک ہیں۔ اللہ تعالیٰ شہداء کے درجات بلند فرمائے، زخمیوں کو جلد صحت عطا کرے اور ان خاندانوں کو صبر دے جن کے پیارے آج ان سے ہمیشہ کے لیے جدا ہوگئے۔
لیکن دعا کے ساتھ ساتھ فیصلہ بھی ضروری ہے۔
اب مذمتوں سے آگے بڑھنے کا وقت ہے۔
اب دعووں سے آگے بڑھنے کا وقت ہے۔
اب ایسی مؤثر حکمتِ عملی کا وقت ہے جو دہشت گردوں کو عبادت گاہوں، پولیس لائنز اور عوامی مقامات تک پہنچنے سے پہلے روک دے۔
کیونکہ اگر خانۂ خدا بھی محفوظ نہ رہا تو پھر عام شہری اپنے تحفظ کی امید کہاں سے رکھے؟




