عالمی ماہرینِ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ بحرِ الکاہل میں بننے والا موسمیاتی نظام ’ایل نینو‘ (El Niño) غیر معمولی شدت اختیار کر کے ’سپر ایل نینو‘ کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ ورلڈ میٹروولوجیکل آرگنائزیشن (WMO) اور امریکی ادارے نوآ (NOAA) کی رپورٹس کے مطابق اس قدرتی نظام اور زمین کی بڑھتی ہوئی گلوبل وارمنگ کے باہمی اثرات کے باعث سال 2027ء تاریخ کا گرم ترین سال ثابت ہو سکتا ہے۔
ایل نینو ایک قدرتی موسمیاتی عمل ہے جس میں بحرِ الکاہل کے سطحِ سمندر کا درجہ حرارت معمول سے کہیں زیادہ بڑھ جاتا ہے۔ جب سمندر کا درجہ حرارت ریکارڈ سطح تک اوپر چلا جائے تو اسے ’سپر ایل نینو‘ کہا جاتا ہے۔ اس کی وجہ سے دنیا بھر کے ہوا کے دباؤ اور بارشوں کے نظام میں شدید افراتفری پیدا ہوتی ہے۔
-
شدید گرمی اور لو (Heatwaves): ماہرینِ موسمیات کے مطابق ایل نینو کی حدت کا سب سے زیادہ اثر اس کے شروع ہونے کے اگلے سال زیادہ محسوس کیا جاتا ہے۔ اسی بنیاد پر خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ 2027ء میں عالمی درجہ حرارت قبل از صنعتی دور کی سطح سے 1.5 ڈگری سے 1.7 ڈگری سینٹی گریڈ تک اوپر جا سکتا ہے۔
-
ایشیا، آسٹریلیا اور لاطینی امریکہ کے مختلف حصوں میں شدید خشک سالی، بارشوں میں کمی اور جنگلات میں آگ لگنے کے واقعات میں اضافے کا امکان ہے۔
-
دنیا کے بعض ساحلی علاقوں اور افریقی ممالک میں غیر معمولی موصلادھار بارشیں اور تباہ کن سیلاب آ سکتے ہیں۔
-
موسمی تبدیلیوں کی وجہ سے فصلوں کی پیداوار متاثر ہونے اور دنیا بھر میں غذائی قلت کے خطرات بڑھنے کا خدشہ ہے۔
ماہرینِ ماحولیات نے عالمی برادری کو خبردار کیا ہے کہ ’سپر ایل نینو‘ اور موسمیاتی تبدیلی (Climate Change) کے اس مشترکہ چیلنج سے نمٹنے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر تیاریاں اور اقدامات کیے جائیں۔

