سہارنپور میں مسجد مسمار کیے جانے پر اکھلیش یادو نے حکومت پر یوپی کو فرقہ وارانہ راستے پر لے جانے کی سازش کا الزام لگایا۔ جبکہ اجے رائے نے گرفتاری اور کارکنوں پر طاقت کے استعمال کا الزام عائد کیا
لکھنؤ: اتر پردیش کے سہارنپور میں ایک مسجد کو غیر قانونی قرار دیے جانے کے بعد منہدم کیے جانے پر سماجوادی پارٹی کے صدر اور سابق وزیر اعلیٰ اکھلیش یادو نے ریاستی حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ ریاست کو فرقہ وارانہ راستے پر لے جانے کی کوشش کی جا رہی ہے اور اس کے لیے سرکاری افسران کا استعمال کیا جا رہا ہے۔
اکھلیش یادو نے پیر کو لکھنؤ میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اگر کسی معاملے میں انصاف حاصل کرنا تھا تو اس کے لیے ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ موجود ہیں۔ انہوں نے سوال کیا کہ آخر مسجد کو 12 یا 13 گھنٹے کے اندر گرانے کی کیا ضرورت تھی؟
انہوں نے کہا، ’’انصاف کے لیے ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ ہیں۔ کیا ضرورت تھی کہ 12 یا 13 گھنٹے میں مسجد کو گرا دیا جائے؟ یہ سوچی سمجھی سازش ہے، جس کے تحت وہ پورے اتر پردیش کو افسران کے ذریعے فرقہ وارانہ راستے پر لے جانا چاہتے ہیں۔‘‘
سماج وادی پارٹی صدر نے حکومت کی معاشی پالیسیوں پر بھی سوال اٹھائے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کے پاس مہنگائی کا کوئی جواب نہیں ہے اور نہ ہی وہ روزگار فراہم کرنے میں کامیاب رہی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ حکومت سرمایہ کاری لانے میں بھی ناکام رہی ہے اور بین الاقوامی سطح پر ملک کی کوئی نمایاں دھاک قائم نہیں کر پائی۔
اکھلیش نے الزام لگایا کہ حکومت موجودہ اثاثوں کو فروخت کر رہی ہے اور اس کا مقصد اپنے لوگوں کو فائدہ پہنچانا ہے۔ ان کے مطابق، ’’جو چیزیں تھیں، ان کو یہ بیچ رہے ہیں۔ یہ حکومت اپنے لوگوں کو فائدہ پہنچانے کے لیے چیزوں کو فروخت کر رہی ہے۔‘‘
دوسری جانب اتر پردیش کانگریس کے صدر اجے رائے نے الزام عائد کیا ہے کہ سہارنپور میں مسجد مسمار کیے جانے سے متاثرہ افراد سے ملاقات کے لیے جاتے ہوئے انہیں اور دیگر کانگریس کارکنوں کو پولیس نے حراست میں لے لیا تھا۔

