*منچن آباد (راشد ڈھڈی)
محکمہ زراعت توسیع پنجاب کی ہدایات پر منچن آباد اور مکلوڈ گنج کے علاقوں میں اسموگ کے بڑھتے ہوئے خطرات کے پیشِ نظر کاشتکاروں کے لیے ایک اہم آگاہی مہم اور میٹنگ کا انعقاد کیا گیا۔ اس خصوصی آگاہی پروگرام کی صدارت اسسٹنٹ ڈائریکٹر زراعت توسیع منچن آباد *محمد آصف* نے کی، جبکہ ان کے ہمراہ سینئر ایگریکلچر آفیسر توسیع منچن آباد *محب الرسول* اور ایگریکلچر آفیسر توسیع مکلوڈ گنج *محمد احمد* بھی موجود تھے۔میٹنگ کے دوران اسسٹنٹ ڈائریکٹر محمد آصف نے زمینداروں اور کاشتکاروں سے خطاب کرتے ہوئے اسموگ کے ماحولیاتی اور انسانی صحت پر پڑنے والے خطرناک اثرات پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ فصلوں کی باقیات (خصوصاً دھان کی پرالی) کو آگ لگانا قانوناً جرم ہے اور یہ اسموگ کی سب سے بڑی وجہ بنتا ہے، جس سے نہ صرف فضائی آلودگی پھیلتی ہے بلکہ زمین کی زرخیزی بھی شدید متاثر ہوتی ہے۔
سینئر ایگریکلچر آفیسر محب الرسول اور ایگریکلچر آفیسر محمد احمد نے کاشتکاروں کو جدید زرعی مشینری کے استعمال اور پرالی کو آگ لگائے بغیر تلف کرنے کے متبادل طریقوں کے بارے میں بریفنگ دی۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت پنجاب کی جانب سے پرالی کو زمین میں ہی تلف کرنے کے لیے جدید آلات فراہم کیے جا رہے ہیں جن سے فائدہ اٹھا کر زمین کی نامیاتی مادہ بڑھایا جا سکتا ہے۔
اس موقع پر اسسٹنٹ ڈائریکٹر محمد آصف اور دیگر افسران نے کاشتکاروں میں اسموگ کنٹرول پروگرام کے معلوماتی بروشرز اور پمفلٹ بھی تقسیم کیے۔ میٹنگ میں مقامی کاشتکاروں اور معززین نے کثیر تعداد میں شرکت کی اور محکمہ زراعت کے افسران کو یقین دلایا کہ وہ اسموگ کے خاتمے کے لیے حکومتی احکامات کی مکمل پاسداری کریں گے اور فصلوں کی باقیات کو آگ لگانے سے گریز کریں گے۔




