سکھر ( رپورٹ/ عبد الرحمان راجپوت )
سکھر شہر اور گردونواح میں پبلک ٹرانسپورٹ کے بعض روٹس پر مبینہ طور پر سرکاری طور پر مقرر کردہ کرایہ نامے سے زائد کرایے وصول کیے جانے کی شکایات سامنے آ رہی ہیں، جس کے باعث روزانہ سفر کرنے والے شہریوں اور مسافروں کو شدید مشکلات اور اضافی مالی بوجھ کا سامنا ہے۔شہریوں کا کہنا ہے کہ بعض ٹرانسپورٹرز اور گاڑیوں کے عملے کی جانب سے سرکاری فہرست میں مقرر کردہ کرائے کے بجائے مبینہ طور پر من مانے نرخ طلب کیے جاتے ہیں۔ مسافروں کے مطابق کرایہ پوچھنے پر مختلف گاڑیوں میں مختلف رقم بتائی جاتی ہے، جبکہ مقررہ کرایہ ادا کرنے پر بعض اوقات عملے کی جانب سے نامناسب رویے کی شکایات بھی سامنے آتی ہیں۔شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر سرکاری کرایہ نامہ جاری کیا گیا ہے تو اس پر مکمل عملدرآمد بھی یقینی بنایا جائے اور تمام بسوں، کوچز، ویگنوں اور دیگر پبلک ٹرانسپورٹ گاڑیوں میں سرکاری کرایہ نامہ نمایاں جگہ پر آویزاں کیا جائے تاکہ مسافر مقررہ کرائے سے آگاہ رہیں۔عوام نے ڈپٹی کمشنر سکھر، ریجنل ٹرانسپورٹ اتھارٹی، محکمہ ٹرانسپورٹ اور دیگر متعلقہ اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ سکھر کے مختلف بس اڈوں اور روٹس پر اچانک چیکنگ کا سلسلہ شروع کیا جائے، سرکاری کرایہ نامے سے زائد وصولی کرنے والوں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے اور مسافروں کو اضافی کرایوں کی وصولی سے تحفظ فراہم کیا جائے۔شہریوں نے مزید مطالبہ کیا کہ زائد کرایہ وصول کرنے والے ٹرانسپورٹرز کے خلاف مؤثر کارروائی کے ساتھ ساتھ شکایات کے اندراج کے لیے واضح اور آسان طریقہ کار بھی متعارف کرایا جائے تاکہ عوام بلاخوف اپنی شکایات متعلقہ حکام تک پہنچا سکیں۔
عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ مہنگائی کے موجودہ دور میں من مانے کرایوں کی وصولی شہریوں پر مزید بوجھ ڈال رہی ہے، اس لیے اعلیٰ حکام کو معاملے کا فوری نوٹس لے کر سرکاری کرایہ نامے پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنانا چاہیے۔

