واشنگٹن :ایران کے ساتھ جاری شدید مسلح کشیدگی اور جنگ نے مشرقِ وسطیٰ میں موجود امریکی بحریہ کے لیے رسد اور سپلائی کا ایک ایسا ہولناک بحران کھڑا کر دیا ہے جس کی مثال تاریخ میں نہیں ملتی۔
امریکی اخبار ‘نیویارک ٹائمز’ کی ایک تفصیلی رپورٹ کے مطابق، خطے میں تعینات لگ بھگ 20 جنگی جہازوں پر سوار تقریباً 20 ہزار ملاحوں اور میرینز کو زندہ رہنے اور جنگی تیاریاں برقرار رکھنے کے لیے ہر ہفتے 4 لاکھ 20 ہزار سے زائد کھانوں اور قریباً 80 لاکھ گیلن ایندھن کی شدید ضرورت ہوتی ہے، جو اب انتہائی کٹھن مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔
اس بحران کا آغاز جنگ کے پہلے ہی روز یعنی 28 فروری کو اس وقت ہوا جب ایرانی فورسز نے بحرین میں قائم امریکی بحریہ کے ایک انتہائی اہم اور مرکزی لاجسٹک اڈے کو میزائل حملے میں تباہ کر دیا۔ اس کے علاوہ خطے کی دیگر تمام بڑی بندرگاہیں بھی ایرانی میزائلوں اور کامیکازی ڈرونز کی براہِ راست زد میں ہیں، جس کی وجہ سے یہ بندرگاہیں اتنی غیر محفوظ ہو چکی ہیں کہ اب کوئی بھی طیارہ بردار بحری جہاز یا بھاری سپلائی شپ وہاں لنگر انداز ہونے کی جرات نہیں کر سکتا۔
بندرگاہیں بند ہونے اور خطے میں محفوظ انفراسٹرکچر کے خاتمے کے بعد امریکی سپلائی جہازوں کو مجبورا ہزاروں میل کا اضافی سفر طے کرنا پڑ رہا ہے۔ اب ضروری خوراک، ایندھن اور جنگی ساز و سامان حاصل کرنے کے لیے ان جہازوں کو بحرِ ہند کے ایک چھوٹے سے جزیرے ‘ڈیاگو گارشیا’ جانا پڑتا ہے جو کہ یہاں سے تقریباً 2,200 میل دور واقع ہے، جبکہ دوسرا متبادل آپشن قریباً 3,700 میل دور ‘سنگاپور’ کی بندرگاہ ہے جہاں پہنچنے کے لیے مصروف اور حساس آبنائے ملاکا سے گزرنا لازم ہوتا ہے۔
اس طویل مسافت اور انتہائی خطرناک سپلائی روٹ کی وجہ سے امریکی جنگی جہازوں کو اب ہر پانچ یا چھ دن کے بعد کھلے سمندر میں ہی دوبارہ رسد لینے پر مجبور ہونا پڑتا ہے۔ کھلے سمندر میں یہ عمل انتہائی خطرناک ہوتا ہے جہاں ایک سپلائی شپ اور جنگی جہاز کو شدید لہروں، تیز ہواؤں اور سمندری رو کے باوجود گھنٹوں ایک دوسرے سے محض 150 فٹ کے فاصلے پر بالکل ایک جیسی رفتار اور متوازی راستے پر چلنا پڑتا ہے۔ اس کے بعد کیبلز، بھاری ایندھن کی لائنوں، کارگو اور ہیلی کاپٹروں کے ذریعے سامان کی منتقلی کی جاتی ہے، جس کے دوران یہ دونوں بڑے بحری جہاز دشمن کے کسی بھی اچانک حملے کے سامنے انتہائی غیر محفوظ اور آسان ہدف بن جاتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ طویل اور تھکا دینے والا نظام امریکی بحریہ کی صلاحیتوں کو اندر سے چاٹ رہا ہے۔ امریکہ کے پاس کل ملا کر صرف 11 طیارہ بردار بحری جہاز موجود ہیں، جن میں سے 4 اکیلے مشرقِ وسطیٰ کے جنگی زون میں جھونک دیے گئے ہیں، جبکہ باقی ماندہ جہازوں میں سے بعض طویل اور پیچیدہ مرمتی مراحل کے باعث برسوں تک دوبارہ جنگی میدان میں اترنے کے قابل نہیں ہیں۔ دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق، اگر سپلائی کا یہ سلسلہ اسی طرح دباؤ کا شکار رہا تو امریکی بحریہ کے لیے طویل المدتی جنگ لڑنا ایک ناقابلِ تسخیر چیلنج بن جائے گا۔
مشرقِ وسطیٰ میں امریکی بحریہ کو رسد کا سنگین بحران: نیویارک ٹائمز کی تہلکہ خیز رپورٹ

