لاہور:پنجاب کے طلبہ و طالبات کے لیے سفر کو آسان، ماحول دوست اور انتہائی کم خرچ بنانے کے لیے حکومتِ پنجاب نے الیکٹرک بائیک اسکیم کے بنیادی مالیاتی فریم ورک اور شرائط میں ایک بڑی اور انقلابی تبدیلی کا اعلان کیا ہے۔
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی زیر صدارت اعلیٰ سطح کے جائزہ اجلاس کے بعد اس پرکشش اسکیم کا باضابطہ آغاز کر دیا گیا ہے، جس سے صوبے کے لاکھوں طلبہ براہِ راست مستفید ہوں گے۔
نئی پالیسی کے مطابق اب طلبہ و طالبات کو بائیک کے حصول کے لیے کسی بھی قسم کی پیشگی رقم یا ڈاؤن پیمنٹ ادا نہیں کرنا پڑے گی، جبکہ ماہانہ قسط کا بوجھ بھی کم ترین سطح پر فِکس کرتے ہوئے صرف تین ہزار روپے ماہانہ کر دیا گیا ہے۔ حکومتِ پنجاب نے پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ (PITB) اور بینک آف پنجاب (BOP) کو ہدایت کی ہے کہ درخواستوں کی وصولی کا عمل فوری طور پر شروع کر دیا جائے۔
گزشتہ برس جب یہ اسکیم متعارف کروائی گئی تھی تو طلبہ کو ڈھائی لاکھ کے قریب مالیت کی بائیک کے لیے تقریباً 30 فیصد ڈاؤن پیمنٹ یعنی 46 ہزار روپے تک پیشگی جمع کروانا پڑتے تھے، جبکہ ماہانہ قسط بھی 6,400 روپے سے زائد تھی۔ اس کے علاوہ رجسٹریشن، انشورنس اور دیگر اضافی چارجز بھی طالب علم کے ذمے تھے، جس سے کل لاگت دو لاکھ روپے سے تجاوز کر جاتی تھی۔
تاہم وزیراعلیٰ مریم نواز نے ان تمام بوجھل شرائط کو یکسر مسترد کرتے ہوئے حکم دیا کہ طلبہ کو ریلیف فراہم کیا جائے۔ اب یہ نیا ماڈل 100 فیصد بلاسُود (صفر فیصد مارک اپ) پر مبنی ہے، جہاں بینک مارک اپ، انشورنس اور رجسٹریشن کے تمام اخراجات حکومتِ پنجاب خود برداشت کرے گی۔ اس طرح 24 ماہ کی اقساط میں 3 ہزار روپے ماہانہ کے حساب سے ایک طالب علم کو یہ جدید ای بائیک محض 72 ہزار روپے کی انتہائی سستی اور رعایتی قیمت میں مکمل ملکیت کے ساتھ مل جائے گی۔
حکومتِ پنجاب کی اس وسیع تر اسکیم کے تحت صوبے بھر میں 1 لاکھ 25 ہزار سے زائد جدید لیتھیئم آئرن فاسفیٹ بیٹری سے لیس الیکٹرک بائیکس تقسیم کی جائیں گی۔ خوش قسمتی کی بات یہ ہے کہ بائیک کے ساتھ طلبہ کو مفت ہیلمٹ، سیفٹی راڈ اور دو دن کی مفت رائیڈنگ ٹریننگ بھی فراہم کی جائے گی۔
ترجمان پنجاب حکومت عظمیٰ بخاری کے مطابق، وہ تمام طلبہ جو پنجاب کے کسی بھی ایچ ای سی (HEC) سے تسلیم شدہ کالج یا یونیورسٹی میں باقاعدہ (ریگولر) رجسٹرڈ ہیں، اس اسکیم کے لیے 100 فیصد اہل ہیں۔ امیدوار کی عمر کم از کم 18 سال ہونی چاہیے، اور اس کے پاس پنجاب کا درست قومی شناختی کارڈ، ڈومیسائل اور موٹر سائیکل چلانے کا درست ڈرائیونگ لائسنس یا کم از کم سرکاری لرنر پرمٹ ہونا لازمی ہے۔
درخواست دینے کا طریقہ کار اور شفافیت
پی آئی ٹی بی کا تیار کردہ خصوصی آن لائن پورٹل (bikes.punjab.gov.pk) فعال کر دیا گیا ہے جہاں طلبہ اپنے کوائف، شناختی کارڈ، ڈومیسائل اور لرنر پرمٹ اپ لوڈ کر سکتے ہیں۔
حکام کے مطابق، کوٹے سے زیادہ درخواستیں موصول ہونے کی صورت میں مکمل طور پر شفاف اور خودکار کمپیوٹرائزڈ قرعه اندازی (ای بیلاٹنگ) کی جائے گی، جس میں شہری اور دیہی علاقوں کے لیے مساوی کوٹہ رکھا گیا ہے۔ قرعہ اندازی میں کامیاب ہونے والے طلبہ کی دستاویزات کی پڑتال کے بعد بینک آف پنجاب کے ساتھ معاہدہ طے پائے گا، اور حتمی منظوری کے محض چھ ہفتوں کے اندر اندر الیکٹرک بائیک طالب علم کے حوالے کر دی جائے گی۔

