عمرکوٹ رپورٹ بیوروچیف ڈاکٹر ایم لال واگھانی
عمرکوٹ ضلع سطح پر غیر قانونی غیر ملکیوں کی وطن واپسی کے عمل کی نگرانی اور اس سلسلے میں جاری اقدامات کا جائزہ لینے کے لیے ڈپٹی کمشنر عمرکوٹ نوید الرحمان لاڑک کی زیر صدارت اہم اجلاس ڈپٹی کمشنر آفیس عمرکوٹ کے کانفرنس ہال میں منعقد ہوا، اجلاس میں ضلع عمرکوٹ میں غیر قانونی طور پر مقیم غیر ملکیوں کی شناخت، واپسی کے عمل، مشتبہ غیر ملکیوں کے زیرِ استعمال جعلی یا بلاک شدہ شناختی کارڈز اور اس حوالے سے نادرا کی جانب سے کی جانے والی کارروائیوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا، اجلاس میں ایس ایس پی عمرکوٹ سہائی عزیز ٹالپر، اسپیشل برانچ میرپورخاص کے نمائندے، آئی ایس آئی، ایم آئی اور انٹیلیجنس بیورو کے نمائندي، نادرا زونل ہیڈ عمرکوٹ اور اسسٹنٹ ڈائریکٹر نادرا عمرکوٹ، ڈسٹرکٹ انفارمیشن آفیسر عمرکوٹ محمد اسلم بھٹی سمیت دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی، اجلاس کے دوران غیر قانونی غیر ملکیوں کی واپسی کے عمل اور ضلع عمرکوٹ میں اس سلسلے میں اب تک کی گئی پیش رفت پر تفصیلی بریفنگ دی گئی، شرکاء نے غیر قانونی طور پر مقیم غیر ملکی افراد کی نشاندہی، ان کی دستاویزات کی جانچ پڑتال اور متعلقہ اداروں کے درمیان معلومات کے بروقت تبادلے سے متعلق امور پر غور کیا، اس موقع پر نادرا حکام کی جانب سے ایسے مشتبہ افراد کے بارے میں موجودہ صورتحال پیش کی گئی جن کے شناختی کارڈ جعلی، مشکوک یا بلاک کیے گئے ہیں اور کہا کہ اس وقت تک کل تین بلاک شناختی کارڈ کو کلیئر کیا گیا ہے، اجلاس میں خاص طور پر ان افراد کے کوائف، شناختی دستاویزات کی تصدیق اور نادرا ریکارڈ کے مطابق ان کی موجودہ حیثیت کا جائزہ لیا گیا، متعلقہ حکام کو ہدایت کی گئی کہ مشکوک شناختی کارڈز کے معاملات میں قانون، ضابطوں اور مقررہ طریقہ کار کے مطابق تصدیقی عمل کو مؤثر بنایا جائے، ڈپٹی کمشنر نوید الرحمان لاڑک نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ غیر قانونی غیر ملکیوں کی واپسی کے عمل میں تمام متعلقہ اداروں کے درمیان باہمی رابطہ، مؤثر معلومات کا تبادلہ اور قانون کے مطابق کارروائی انتہائی ضروری ہے، انہوں نے ہدایت کی کہ غیر قانونی طور پر مقیم غیر ملکیوں کی درست نشاندهي اور ان کی دستاویزات کی جانچ پڑتال کے عمل میں تمام متعلقہ ادارے اپنا بھرپور کردار ادا کریں، انہوں نے مزید کہا کہ نادرا کے ریکارڈ میں بلاک یا مشکوک شناختی کارڈ رکھنے والے افراد کے معاملات کو بھی سنجیدگی سے دیکھا جائے اور مکمل تصدیق کے بعد ہی آئندہ کی کارروائی عمل میں لائی جائے تاکہ کسی بھی بیگناہ شخص کو کسی پریشانی کا سامنا کرنا نا پڑے اور قانون پر مکمل عملدرآمد ہو سگے۔


