واشنگٹن ڈی سی :امریکی فوج کے سیکریٹری ڈین ڈرسکول نے عہدہ سنبھالنے کے تقریباً 18 ماہ بعد استعفیٰ دے دیا ہے۔ امریکہ میں بی بی سی کے شراکت دار ادارے سی بی ایس کے مطابق ان کی رخصتی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ کے ساتھ کئی ماہ سے جاری اختلافات کے پس منظر میں ہوئی ہے۔
41 سالہ ڈرسکول امریکی تاریخ کے کم عمر ترین آرمی سیکریٹری تھے۔وائٹ ہاؤس کی ترجمان انا کیلی نے اپنے ایک بیان میں ڈین ڈراسکول کے مستعفی ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایجنڈے کو آگے بڑھانے اور فوجی تیاریوں کو بہتر بنانے میں ان کی خدمات کو سراہا ہے۔ تاہم، اندرونی حلقوں کا کہنا ہے کہ پینٹاگون میں یہ تبدیلی اچانک نہیں آئی بلکہ پچھلے کئی ماہ سے آرمی کے مستقبل اور اہم عسکری تقرریوں پر سیکرٹری دفاع پیٹ ہیگسیتھ اور ڈین ڈراسکول کے درمیان شدید کشمکش جاری تھی۔
حالیہ چند ماہ کے دوران امریکا کے کئی اعلیٰ فوجی حکام نے اپنے عہدے چھوڑے ہیں۔ اس سے قبل نیوی کے سیکریٹری جان فیلن، آرمی چیف آف سٹاف رینڈی جارج، جنرل ڈیوڈ ہوڈنے اور میجر جنرل ولیم گرین بھی اپنے عہدوں سے الگ ہو چکے ہیں۔
وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ ایک درجن سے زائد سینیئر فوجی افسران کو برطرف کر چکے ہیں، جن میں چیف آف نیول آپریشنز اور امریکی فضائیہ کے نائب سربراہ بھی شامل ہیں۔ تاہم ڈرسکول اور ہیگسیتھ کے درمیان اختلافات کی نوعیت کے بارے میں تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔
امریکی آرمی سیکریٹری کا عہدہ فوج کا اعلیٰ ترین سویلین منصب سمجھا جاتا ہے جو فعال فوج، نیشنل گارڈ اور ریزرو فورسز کی نگرانی کا ذمہ دار ہوتا ہے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق، دونوں رہنماؤں کے درمیان اختلافات کی بڑی وجہ سیکرٹری دفاع کی جانب سے فوج کے کچھ سینئر افسران کو ہٹانے کے مطالبات تھے، جن میں سے متعدد پر ڈین ڈراسکول نے مزاحمت کی۔ اس کے علاوہ، فروری کے مہینے میں پیٹ ہیگسیتھ کی جانب سے ڈین ڈراسکول کے قریبی مشیر اور سابق فوجی ترجمان کرنل ڈیوڈ بٹلر کو جبری طور پر ہٹانے کے اقدام نے بھی دونوں کے تعلقات کو مزید تلخ کر دیا تھا۔
ڈین ڈراسکول، جنہیں عسکری جدید کاری میں ان کے نمایاں کام کی وجہ سے "ڈرون گائے” بھی کہا جاتا ہے نے 2007 میں امریکی فوج میں بطور افسر خدمات کا آغاز کیا، بعد ازاں ایک کیولری پلاٹون کی قیادت کی اور 2009 میں عراق میں بھی تعینات رہے۔ آرمی سیکریٹری کی حیثیت سے وہ جنگی میدان میں جدید ڈرون اور نئی عسکری ٹیکنالوجیز کے فروغ کے حوالے سے خاص طور پر نمایاں رہے۔
انہوں نے روس یوکرین جنگ کے خاتمے کے لیے ہونے والی سفارتی کوششوں میں بھی کردار ادا کیا اور یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی سمیت کئی عالمی رہنماؤں سے ملاقاتیں کیں۔ وہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کے قریبی ساتھی اور ذاتی دوست بھی سمجھے جاتے ہیں۔
اپنی مدت کے دوران ڈرسکول نے امریکی شہروں میں نیشنل گارڈ کی تعیناتی کے معاملات میں بھی اہم کردار ادا کیا، جبکہ وہ بیورو آف الکوحل، ٹوبیکو، فائر آرمز اینڈ ایکسپلوسوز (اے ٹی ایف) کے قائم مقام سربراہ کی ذمہ داریاں بھی سنبھالتے رہے۔
ڈین ڈراسکول کے جانے کے بعد اب امریکی فوج کوئی بھی تصدیق شدہ سویلین یا عسکری سربراہ نہیں رکھتی، کیونکہ اس سے قبل جنر رینڈی جارج کی برطرفی کے بعد جنرل کرسٹوفر لانیو پہلے ہی قائم مقام چیف کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔ امریکی قانون سازوں نے اس صورتحال پر شدید تشویش ظاہر کی ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب امریکہ اور ایران کے درمیان جاری جنگ کو چھ ماہ سے زائد کا عرصہ گزر چکا ہے اور اہم دفاعی محاذوں پر قیادت کا خلاء ملک کی سکیورٹی کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔

