وزیرِ خارجہ خاقان فدان اور سعودی ہم منصب کے درمیان بھی مذاکرات، وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی بھی سعودی ہم منصب سے ملاقات
استنبول / انقرہ:ترکیہ، سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان دفاعی اور اسٹریٹجک تعاون کے ایک نئے اور تاریخ ساز دور کا باضابطہ آغاز ہو گیا ہے۔ "مکہ جوائنٹ ڈیفنس ایگریمنٹ” کے تحت حاقان فیدان نے مزید کہا کہ نیٹو طرز کا یہ اتحاد اس اصول کے تحت قائم کیا گیا ہے کہ مخصوص شرائط پوری کرنے والے دیگر ممالک بھی اس میں شامل ہو سکتے ہیں۔سعودی پریس ایجنسی کے مطابق، سعودی وفد کی سربراہی سعودی وزیرِ دفاع شہزادہ خالد بن سلمان کر رہے ہیں، جبکہ سعودی وزیرِ خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان اور دیگر اعلیٰ حکام بھی وفد میں شامل ہیں۔
Türkiye, Pakistan ve Suudi Arabistan’ın katılımıyla Stratejik Siyasi ve Savunma Komitesi’nin ilk toplantısı İstanbul’da gerçekleştirildi. pic.twitter.com/S2YJOw19Xg
— Conflict (@ConflictTR) August 31, 2026
اجلاس باقاعدہ شروع ہونے سے قبل دونوں جانب سے اعلیٰ سطحی رابطوں اور ملاقاتوں کا سلسلہ جاری رہا۔ ترک وزیرِ قومی دفاع یاشار گولر (Yaşar Güler) نے پاکستان کی مسلح افواج کے کمانڈر فیلڈ مارشل عاصم منیر سے خصوصی ملاقات کی، جس میں دوطرفہ عسکری تعلقات اور دفاعی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس کے علاوہ ترکیہ کے وزیرِ خارجہ خاقان فدان نے سعودی عرب کے وزیرِ خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان آل سعود سے ملاقات کی، جبکہ ترکیہ کے چیف آف جنرل اسٹاف جنرل سلچوک بائراکتاروغلو بھی اسٹریٹجک مذاکرات میں بھرپور انداز میں شریک ہوئے۔
Milli Savunma Bakanı Yaşar Güler, Mekke Ortak Savunma Anlaşması toplantısı öncesinde Pakistan Savunma Kuvvetleri Komutanı Mareşal Asım Münir ile bir araya geldi.pic.twitter.com/l9pyL41T3G
— Conflict (@ConflictTR) August 31, 2026
استنبول میں ہونے والے اس پہلے اجلاس کا محور تینوں ممالک کے درمیان دفاعی شراکت داری کو عملی جامہ پہنانا تھا۔ ترکیہ کے ذرائع ابلاغ اور سرکاری خبر رساں اداروں کے مطابق، اجلاس میں مشترکہ عسکری پیداوار اور جدید دفاعی سازوسامان اور ٹیکنالوجی کی مشترکہ تیاری کے لیے لائحہ عمل پر تفصیلی گفتگو کی گئی اسی طرح تینوں ممالک کے درمیان فوجی مطابقت (Interoperability) تینوں ممالک کی مسلح افواج کے درمیان تربیتی اور آپریشنل ہم آہنگی کو فروغ دینے پر بھی مذاکرات ہوئے اسی طرح مکہ معاہدے کے تحت طے پانے والے دفاعی اصولوں کو عملی شکل دینے کے لئے بھی جامع مذاکرات ہوئے جس کے تحت کسی ایک ملک پر ہونے والا حملہ تینوں ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا۔
Türkiye, Pakistan ve Suudi Arabistan heyetleri, Stratejik Siyasi ve Savunma Komitesi toplantısı öncesinde İstanbul’da bir araya geldi.pic.twitter.com/WHqo0t5sEG
— Conflict (@ConflictTR) August 31, 2026
تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ مشرق وسطیٰ اور جنوبی ایشیا کے اس نئے سہ فریقی دفاعی اتحاد سے نہ صرف خطے میں طاقت کا توازن قائم ہوگا بلکہ اندرونی اور بیرونی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے تینوں برادر اسلامی ممالک ایک ناقابل تسخیر قوت کے طور پر ابھریں گے۔ اجلاس کے اختتام پر اہم دفاعی معاہدوں اور مشترکہ اقدامات کے اعلان کی توقع کی جا رہی ہے۔

