پشاور:خیبرپختونخوا کے جنوبی اضلاع بنوں اور لکی مروت میں سکیورٹی خدشات اور دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے واقعات کے تناظر میں صوبائی حکومت نے اہم تنصیبات کی حفاظت کے لیے وفاقی حکومت سے فوری طور پر ایف سی کی اضافی نفری طلب کر لی ہے۔
ذرائع کے مطابق صوبائی محکمہ ہوم اینڈ ٹرائبل افیئرز کی جانب سے وزارتِ داخلہ کو ایک باضابطہ مراسلہ ارسال کیا گیا ہے جس میں دونوں حساس اضلاع کے لیے مجموعی طور پر 9 ایف سی پلاٹونز (تقریباً 450 اہلکار) فراہم کرنے کی استدعا کی گئی ہے۔
مراسلے میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ بنوں میں پولیس امن کمیٹی کے مسلسل احتجاج اور امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورتحال کے بعد اہم سرکاری تنصیبات کی حفاظت اب ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے۔ مقامی پولیس حکام کے مطابق موجودہ حالات کی وجہ سے جوڈیشل، انتظامی اور دیگر اعلیٰ افسران کی نقل و حرکت بھی شدید متاثر اور مشکل ہو چکی ہے، جس کے پیش نظر ایف سی اہلکاروں کی تعیناتی کو ناگزیر قرار دیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق مانگی گئی نفری کو حساس اداروں اور عمارتوں میں تقسیم کیا جائے گا:
لکی مروت: ڈسٹرکٹ جیل کے لیے 2 ایف سی پلاٹونز جبکہ ڈسٹرکٹ جوڈیشل کمپلیکس اور ڈسٹرکٹ ایڈمنسٹریشن کے لیے ایک ایک پلاٹون طلب کی گئی ہے۔
بنوں: ڈسٹرکٹ جیل، ڈسٹرکٹ جوڈیشل کمپلیکس، ڈپٹی کمشنر آفس، ہنگو کورٹ بنوں بنچ اور کے ٹی این اینڈ گرڈ اسٹیشن کی سکیورٹی کے لیے بھی فی کس ایک ایک ایف سی پلاٹون مانگی گئی ہے۔
یہ تمام نفری متعلقہ ڈسٹرکٹ پولیس افسران (DPOs) کے ماتحت کام کرے گی تاکہ مقامی پولیس کے ساتھ مل کر ممکنہ بدامنی کی مؤثر انداز میں روک تھام کی جا سکے۔ ۔
یاد رہے کہ بنوں اور لکی مروت میں گزشتہ کچھ عرصے کے دوران پولیس پر مسلسل حملوں کے علاوہ دہشت گردوں کی جانب سے نئے ہتھکنڈوں اور ڈرون حملوں جیسے واقعات بھی رپورٹ ہو چکے ہیں، جن کی وجہ سے ان دونوں اضلاع کی سکیورٹی صورتحال کو انتہائی حساس اور تشویشناک قرار دیا جا رہا ہے۔

