تل ابیب / مقبوضہ مغربی کنارے:مقبوضہ مغربی کنارے کے شمالی شہر جنین میں اسرائیلی فوج کی جانب سے کیے جانے والے ایک فضائی حملے کے نتیجے میں حماس کے مقامی رہنما قیس البطاوی اپنے دو ساتھیوں سمیت جاں بحق ہو گئے ہیں۔ اس کارروائی کی تصدیق نہ صرف اسرائیلی فوج نے اپنے سرکاری بیان میں کی ہے بلکہ حماس اور اسلامی جہاد کی عسکری تنظیموں نے بھی اپنے سرکردہ کمانڈر کی شہادت کی توثیق کی ہے۔
اسرائیلی فوج کے جاری کردہ بیان کے مطابق، جنین میں جمعے کے روز ایک مشکوک "سیل” کو فضائی حملے میں نشانہ بنایا گیا جس میں تین افراد مارے گئے جنہیں فوج نے "دہشت گرد” قرار دیا ہے۔ بیان میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ہلاک ہونے والوں میں قیس البطاوی بھی شامل تھے، جو جنین کیمپ میں حماس کی مقامی سرگرمیوں کے مرکزی ذمہ دار تھے۔ فوج کے مطابق اگرچہ یہ کیمپ اس سے قبل "آپریشن آئرن وال” کے دوران ختم کر دیا گیا تھا، تاہم البطاوی اس کے باوجود متعدد عسکری سرگرمیوں کو دوبارہ منظم کرنے میں مصروف تھے۔ اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی ایک فضائی حملے کے ذریعے عمل میں لائی گئی اور موقع پر موجود گاڑی سے اسلحہ بھی برآمد ہوا ہے۔
🚨 BREAKING: Israel kills three Palestinians in Jenin in first strike on West Bank in 10 months
Israel carried out an airstrike on a house under construction in the Horsh Al-Saada on the western outskirts of Jenin in the occupied West Bank on Friday, as large numbers of Israeli… pic.twitter.com/PdwpR8woUD
— Drop Site (@DropSiteNews) August 28, 2026
واقعے کے بعد حماس کے عسکری ونگ "القسام بریگیڈز” نے باضابطہ طور پر قیس البطاوی کی شہادت پر انہیں شاندار خراجِ عقیدت پیش کیا ہے۔ القسام بریگیڈز نے اپنے بیان میں انہیں تنظیم کے انمٹ اور اہم ترین رہنماؤں میں شمار کیا جنھوں نے جنین گورنری میں متعدد بڑی عسکری کارروائیوں کی نہ صرف نگرانی کی بلکہ انہیں عملی طور پر انجام بھی دیا۔
علاوہ ازیں، دوسرے بڑے فلسطینی عسکری گروپ اسلامی جہاد کے عسکری ونگ "القدس بریگیڈز” نے بھی البطاوی کی ہلاکت پر گہرے دکھ اور تعزیت کا اظہار کیا ہے۔ القدس بریگیڈز نے بھی انہیں مغربی کنارے میں اپنے صف اول کے اہم ترین رہنماؤں میں سے ایک قرار دیا ہے، جس سے اس بات کا اندازہ ہوتا ہے کہ اس کارروائی سے فلسطینی عسکری نیٹ ورک کو ایک بڑا دھماکہ خیز نقصان پہنچا ہے۔

