روزانہ کافی پینے والوں میں دائمی جگر کی بیماری سے موت کا خطرہ 49 فیصد تک کم، سیروسس اور جگر کے کینسر کا خطرہ بھی ختم
دبئی:صبح کی شروعات ایک گرم کپ کافی کے ساتھ کرنا دنیا بھر میں عام ہے، لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ یہ خوشگوار مشروب آپ کے جگر کے لیے کسی محافظ سے کم نہیں ہے؟
معروف ماہرِ معدہ ڈاکٹر سوربھ سیٹھی کے مطابق، 10 ہزار سے زائد جگر کے اسکینز اور لاکھوں افراد پر کی جانے والی بین الاقوامی تحقیقات نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ کافی کا باقاعدہ استعمال جگر کو خطرناک اور جان لیوا بیماریوں سے محفوظ رکھنے میں حیرت انگیز طور پر مددگار ثابت ہوتا ہے۔
این ڈی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق، قریباً پانچ لاکھ افراد پر کی گئی ایک وسیع تحقیق کے نتائج سے انکشاف ہوا ہے کہ جو لوگ باقاعدگی سے کافی پیتے ہیں، ان میں دائمی جگر کی بیماری سے موت کا خطرہ کافی نہ پینے والے افراد کے مقابلے میں 49 فیصد کم پایا گیا۔ اسی طرح ایک اور بڑے تجزیے میں یہ بات سامنے آئی کہ روزانہ دو اضافی کپ کافی پینے سے جگر کے خطرناک مرض ’سیروسس‘ (Cirrhosis) کے خطرے میں 44 فیصد کمی واقع ہو جاتی ہے۔
تحقیقات کے دائرے کو جب جگر کے کینسر کی عام ترین قسم ’ہیپاٹو سیلولر کارسینوما‘ تک پھیلایا گیا تو 22 لاکھ سے زائد افراد کے ڈیٹا سے پتا چلا کہ روزانہ دو اضافی کپ کافی پینے والوں میں اس مہلک کینسر کا خطرہ 35 فیصد کم ہو جاتا ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ ماہرین کے مطابق کافی کے یہ فوائد صرف اس میں موجود ’کیفین‘ تک محدود نہیں ہیں۔ کیفین والی اور ڈیکاف (بغیر کیفین کی) کافی، دونوں کو جگر کے بہتر نتائج سے جوڑا گیا ہے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ کافی میں پائے جانے والے دیگر قدرتی اجزا بھی صحت کے لیے انتہائی مفید ہیں۔
برطانوی تحقیق کے مطابق روزانہ تین سے چار کپ کافی کا استعمال بہترین نتائج دیتا ہے، تاہم ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ ہر انسان کی جسمانی برداشت مختلف ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ کافی میں ضرورت سے زیادہ چینی یا کریم شامل کرنے سے اس کے طبی اور غذائی فوائد زائل ہو سکتے ہیں، اس لیے اسے اعتدال کے ساتھ پینا ہی اصل صحت کا راز ہے۔

