تحریر: راجہ نورالہی عاطف
جہاں لفظ بے نقاب ہوں۔۔۔ وہیں سے سچ کا آغاز ہوتاہے
معاشرے میں کچھ لوگ اپنے منصب یا عہدے کی وجہ سے نہیں بلکہ اپنی محنت، کردار، صلاحیت اور خدمت کے باعث پہچانے جاتے ہیں۔ ایسی ہی باصلاحیت اور متحرک شخصیات میں معروف کالم نگار، کنٹنٹ رائٹر، تجزیہ نگار، سماجی کارکن اور گلوبل یونین آف جرنلسٹس خواتین ونگ پاکستان کی سینئر وائس پریزیڈنٹ راحیلہ راجہ کا نام نمایاں ہے، جنہوں نے قلم اور سماجی خدمت دونوں میدانوں میں اپنی منفرد شناخت قائم کی ہے۔
راحیلہ راجہ کی صحافتی و سماجی خدمات کے اعتراف میں جرنلسٹ فاؤنڈیشن کی جانب سے انہیں حسنِ کارکردگی سرٹیفکیٹ سے نوازا گیا۔ یہ اعزاز روزنامہ نوائے وقت اسلام آباد سے وابستہ معروف جرنلسٹ زاہد حسن چغتائی نے اپنے دستِ مبارک سے انہیں پیش کیا۔ بلاشبہ کسی بھی شعبے میں خدمات کے اعتراف میں ملنے والا اعزاز صرف ایک سرٹیفکیٹ نہیں ہوتا بلکہ یہ اس شخص کی مسلسل جدوجہد، خلوص اور صلاحیتوں کی اجتماعی پذیرائی کا مظہر ہوتا ہے۔
راحیلہ راجہ نے صحافت کو محض خبر رسانی کا ذریعہ نہیں سمجھا بلکہ اسے معاشرے کی اصلاح، شعور کی بیداری اور مثبت سوچ کے فروغ کا وسیلہ بنایا۔ ان کی تحریروں میں معاشرتی مسائل، انسانی احساسات، عوامی مشکلات اور عصرِ حاضر کے اہم موضوعات کو اجاگر کرنے کا خوبصورت انداز نمایاں نظر آتا ہے۔ وہ قلم کو ذمہ داری سمجھ کر استعمال کرتی ہیں اور یہی وصف انہیں دیگر قلم کاروں سے ممتاز کرتا ہے۔
ایک کامیاب صحافی اور کالم نگار کے لیے الفاظ پر عبور کے ساتھ ساتھ حالات و واقعات کا گہرا مشاہدہ بھی ضروری ہوتا ہے۔ راحیلہ راجہ کی تحریروں میں یہی مشاہداتی بصیرت دکھائی دیتی ہے۔ ان کا اندازِ تحریر سادہ، مؤثر اور قاری کو سوچنے پر مجبور کرنے والا ہے۔ وہ مختلف موضوعات پر اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے معاشرتی شعور اجاگر کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔
ان کی شخصیت کا ایک قابلِ قدر پہلو سماجی خدمت بھی ہے۔ صحافت کے ساتھ ساتھ عوامی فلاح و بہبود کے لیے ان کی کاوشیں اس امر کی عکاس ہیں کہ وہ معاشرے کے مسائل کو صرف الفاظ میں بیان کرنے تک محدود نہیں رہتیں بلکہ عملی طور پر بھی اپنا کردار ادا کرنے کو اہم سمجھتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ عوامی، سماجی، تعلیمی، ادبی اور صحافتی حلقوں میں انہیں قدر و احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔
راحیلہ راجہ کو اس سے قبل بھی مختلف فورمز پر ان کی صحافتی، ادبی اور سماجی خدمات کے اعتراف میں حسنِ کارکردگی کے سرٹیفکیٹس اور اعزازات سے نوازا جا چکا ہے۔ حالیہ بیسٹ پرفارمنس سرٹیفکیٹ بھی ان کی مسلسل محنت اور خدمات کا ایک اور اعتراف ہے۔
درحقیقت معاشرے کو ایسے ہی قلم کاروں کی ضرورت ہے جو اختلاف کو نفرت نہیں بلکہ مکالمے کا ذریعہ بنائیں، مسائل کی نشاندہی کے ساتھ ان کے حل کی طرف بھی توجہ دلائیں اور اپنی صلاحیتوں کو ذاتی مفاد کے بجائے اجتماعی بھلائی کے لیے بروئے کار لائیں۔ راحیلہ راجہ کی صحافتی اور سماجی سرگرمیاں اسی مثبت سوچ کی آئینہ دار ہیں۔
ان کے لیے یہ اعزاز یقیناً باعثِ مسرت ہے، تاہم ان کی اصل کامیابی یہ ہے کہ ان کی خدمات کو مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد تسلیم کرتے ہیں۔ عوامی، سماجی، تعلیمی، ادبی اور صحافتی حلقوں کی جانب سے انہیں مبارکباد اور نیک تمناؤں کا اظہار اس بات کا ثبوت ہے کہ ایک مخلص اور متحرک شخصیت کی محنت کبھی رائیگاں نہیں جاتی۔
راحیلہ راجہ کو حسنِ کارکردگی سرٹیفکیٹ کا ملنا دراصل ایک فرد کا نہیں بلکہ مثبت صحافت، باوقار قلم اور خدمتِ خلق کے جذبے کا اعزاز ہے۔ دعا ہے کہ وہ اسی عزم، خلوص اور حوصلے کے ساتھ اپنی صحافتی و سماجی خدمات کا سفر جاری رکھیں اور آنے والے وقت میں مزید کامیابیاں اور اعزازات ان کا مقدر بنیں۔


