سکھر ( رپورٹ/ عبد الرحمان راجپوت )
ریجنل ڈائریکٹر صوبائی محتسب سندھ سکھر احمد علی قریشی کا سینٹرل جیل سکھر کا دورہ، قیدیوں کو فراہم کی جانے والی سہولیات کا جائزہ
سکھر ریجنل ڈائریکٹر صوبائی محتسب سندھ سکھر احمد علی قریشی نے سینٹرل جیل و اصلاح گھر سکھر کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے قیدیوں کو فراہم کی جانے والی بنیادی سہولیات، کورٹ میں پیشی پر لانے و لیے جانے، طبی و رہائشی انتظامات، صفائی ستھرائی، کھانے پینے اور دیگر خدمات کا تفصیلی جائزہ لیا۔ دورے کا مقصد یہ جانچنا تھا کہ قیدیوں کو سندھ جیل مینوئل کے مطابق مقررہ سہولیات اور ضروری خدمات فراہم کی جا رہی ہیں یا نہیں۔
اس موقع پر ریجنل ڈائریکٹر صوبائی محتسب نے جیل کے اسپتال، ھنری مرکز، مختلف بیرکوں، سیلز اور ایڈمن بلاک سمیت دیگر شعبہ جات کا معائنہ کیا۔ انہوں نے قیدیوں کے لیے دستیاب طبی سہولیات، رہائش، صفائی ستھرائی، خوراک اور دیگر انتظامات کا بھی جائزہ لیا اور جیل انتظامیہ سے مختلف امور پر معلومات حاصل کیں۔
احمد علی قریشی نے جیل انتظامیہ پر زور دیا کہ قیدیوں کے بنیادی حقوق کا مکمل خیال رکھا جائے اور سندھ جیل مینوئل کے تحت انہیں مقررہ سہولیات کی فراہمی ہر صورت یقینی بنائی جائے۔ انہوں نے بعض بیرکوں کی خستہ حالت کا نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ بیرکوں کی ضروری مرمت اور دیکھ بھال کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔
اس موقع پر سینٹرل جیل و اصلاحی مرکز سکھر کے سپرنٹنڈنٹ امتیاز نے ریجنل ڈائریکٹر صوبائی محتسب کو جیل کے انتظامی امور اور قیدیوں کو فراہم کی جانے والی سہولیات کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔ انہوں نے بتایا کہ سینٹرل جیل سکھر 32 بیرکوں اور 267 سیلز پر مشتمل ہے، جہاں اس وقت مجموعی طور پر 1,704 قیدی موجود ہیں، جن میں 173 خطرناک قیدی بھی شامل ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ قیدیوں کی ملاقات کے لیے 8 ملاقات بوتھ قائم ہیں، جبکہ جیل اسپتال، اسکول، ہنری مرکز سمیت دیگر ضروری سہولیات سندھ جیل مینوئل کے مطابق فراہم کی جا رہی ہیں۔
ریجنل ڈائریکٹر صوبائی محتسب احمد علی قریشی نے جیل انتظامیہ کو ہدایت کی کہ قیدیوں کی فلاح و بہبود، صحت، صفائی اور دیگر بنیادی ضروریات سے متعلق انتظامات کو مزید مؤثر بنایا جائے اور کسی بھی جائز شکایت کے ازالے کے لیے بروقت اقدامات کیے جائیں۔
دورے کے اختتام پر ریجنل ڈائریکٹر صوبائی محتسب سندھ سکھر احمد علی قریشی نے سینٹرل جیل سکھر میں قید نوجوانون کے لیے مقابلے کے امتحانات کی تیاری کے لیے کتابیں دینے کا اعلان کیا اور جیل کے احاطے میں یادگاری کے طور پر پودا بھی لگایا۔

