کھٹمنڈو:نیپال اور چین کے سرحدی علاقے تبت میں میں سیلاب کے باعث مختصر تعطل کے بعد جمعہ کو امدادی اور ریسکیو آپریشن دوبارہ شروع کردیا گیا۔ حکام کے مطابق جھیل میں پانی کی سطح بڑھنے سے پیدا ہونے والا خطرہ کم ہونے کے بعد سرچ آپریشن بحال کیا گیا ہے تاہم دونوں ممالک میں سیلاب سے ہلاکتوں کی تعداد 552 تک پہنچ گئی ہے جب کہ تقریباً ایک ہزار افراد اب بھی لاپتا ہیں۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق بدھ کو گلیشیئر کے ٹوٹنے کے نتیجے میں آنے والے تباہ کن سیلاب نے نیپال اور چین کے ہمالیائی علاقوں میں بڑے پیمانے پر تباہی مچائی، نیپال میں اب تک سیلاب کے باعث 547 افراد ہلاک جب کہ چین کے علاقے تبت میں 5 افراد کے جاں بحق ہونے کی تصدیق ہوئی ہے۔حکام اور عینی شاہدین کے مطابق جمعہ کو جھیل میں پانی کا ذخیرہ 25 لاکھ مکعب میٹر سے تجاوز کرگیا، جو ایک روز قبل 15 سے 20 لاکھ مکعب میٹر کے درمیان تھا۔ پانی جھیل سے نکل کر لھینڈے کھولا دریا اور پھر دریائے تریشولی میں داخل ہوا۔جھیل میں پانی کی سطح بڑھنے پر نیپال میں خوف و ہراس پھیل گیا اور حکام نے تقریباً 3 گھنٹے کے لیے ریسکیو آپریشن معطل کردیا۔ چین کی جانب سے بھی تمام چینی امدادی اہلکاروں اور گاڑیوں کو محفوظ مقام پر منتقل کردیا گیا تھا۔چینی سرکاری نشریاتی ادارے کے مطابق دوپہر تک بالائی علاقے میں موجود جھیل سے پیدا ہونے والے خطرے کو قابلِ انتظام قرار دیے جانے کے بعد ریسکیو آپریشن تیزی سے دوبارہ شروع کردیا گیا۔
نیپال کی فوج کے ترجمان راجا رام بسنیٹ کے مطابق سیلاب کی وارننگ کے بعد ریسکیو آپریشن عارضی طور پر روکا گیا تھا تاہم بعد میں معلوم ہوا کہ پانی کی سطح میں تقریباً 2 فٹ اضافہ ہوا ہے۔سیلاب نے دیہات اور وادیوں کو شدید متاثر کیا اور بجلی گھروں، سڑکوں اور پلوں کو تباہ کردیا۔ متاثرہ راستہ نیپال کے دارالحکومت کھٹمنڈو کو تبت کے شہر لہاسا سے ملاتا ہے اور سیاحوں، ہندو یاتریوں اور کوہ پیماؤں کے لیے اہم راستہ سمجھا جاتا ہے۔
حکام کے مطابق سیلاب کے باعث اب تک ایک ہزار افراد تاحال ہیں، لاپتا افراد میں کم از کم 540 غیرملکی شامل ہیں، جن میں بڑی تعداد بھارت سے تعلق رکھنے والے ہندو یاتریوں کی ہے جو تبت میں واقع مقدس مقامات ماؤنٹ کیلاش اور مانسروور جھیل کی جانب جا رہے تھے۔ریڈ کراس کے مطابق سیلاب سے 90 ہزار سے زائد افراد کے متاثر ہونے کا اندازہ ہے جب کہ جھیل کے کنارے ٹوٹنے کے بعد امدادی سامان لے جانے والے ٹرک بھی راستے میں پھنس گئے۔چین کے سرکاری نشریاتی ادارے کے مطابق تبت کے گیئرونگ کاؤنٹی میں 558 افراد لاپتا ہیں، جن میں 260 غیرملکی شہری شامل ہیں۔ چینی علاقے میں اب تک 5 افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہوئی ہے۔
چینی صدر شی جن پنگ کی زیر صدارت پولٹ بیورو کے اجلاس میں ریسکیو کارروائیوں کی ہدایت کی گئی۔ اجلاس میں چین اور بیرون ملک سے تعلق رکھنے والے لاپتا افراد کی تلاش کے لیے ہر ممکن کوشش کرنے اور گلیشیئر جھیلوں، لینڈ سلائیڈنگ اور عارضی جھیلوں کے خطرات کی نگرانی مزید مضبوط بنانے پر زور دیا گیا۔چینی وزیراعظم لی چیانگ بھی جمعرات کو سیلاب سے متاثرہ گیئرونگ کے علاقے پہنچے تھے۔ دوسری جانب نیپال میں ریسکیو ٹیمیں ہیلی کاپٹروں کے ذریعے متاثرہ علاقوں میں زندہ بچ جانے والوں کی تلاش اور امدادی سامان پہنچانے میں مصروف ہیں۔ امدادی کارکنوں نے متاثرہ علاقوں سے درجنوں لاشیں بھی نکالی ہیں۔
سیلاب کے نتیجے میں متعدد خاندان اپنے پیاروں سے محروم ہوگئے جب کہ بڑی تعداد میں لوگ لاپتا رشتہ داروں کی معلومات کے لیے فوجی اڈوں پر پہنچ رہے ہیں۔ادھر نیپال نے سرچ اینڈ ریسکیو کارروائیوں کے لیے دیگر ممالک کی مدد لینے سے انکار کردیا ہے۔ جنوبی کوریا کی ایک فوری امدادی ٹیم کھٹمنڈو پہنچ چکی ہے تاہم اسے تاحال آپریشن میں شامل نہیں کیا گیا۔، چین، امریکا، برطانیہ، جاپان، جنوبی کوریا، سری لنکا اور بنگلادیش سمیت متعدد ممالک نے نیپال کو اپنی سرچ اینڈ ریسکیو ٹیمیں بھیجنے کی پیشکش کی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی نیپال کو امداد کی پیشکش کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کسی نے کبھی ایسا کچھ نہیں دیکھا، جہاں بہت مضبوط اور اچھی طرح بنائی گئی عمارتیں بھی اس طرح تباہ ہوگئیں جیسے وہ ماچس کی تیلیاں ہوں۔ یہ ایک خوفناک صورت حال ہے، ہم امداد بھیج رہے ہیں اور قیادت سے بات کرکے انہیں بتا دیا ہے کہ انہیں جس چیز کی ضرورت ہو، ہم فراہم کریں گے۔نیپال کے وزیراعظم بالیندر شاہ نے جمعرات کو سیلاب سے متاثرہ نواکوٹ کا دورہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ صورتِ حال اب بھی مشکل ہے اور حکومت کی تمام متعلقہ ادارے پوری صلاحیت کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔
وزیراعظم کا نیپالی ہم منصب سے ٹیلی فونک رابطہ
ادھر وزیراعظم شہباز شریف نے نیپال کے وزیراعظم بالیندرشاہ سے ٹیلی فونک رابطہ کیا اور نیپال میں حالیہ سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے نتیجے میں قیمتی جانوں کے ضیاع اور بڑے پیمانے پر ہونے والی تباہی پر دلی تعزیت کا اظہار کیا۔
وزیراعظم نے پاکستان کی عوام اورحکومت کی جانب سے نیپال کی قیادت اور عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہارکرتے ہوئے اس مشکل وقت میں ہر ممکن تعاون اور امداد کی پیشکش کی۔شہباز شریف نے اپنے نیپالی ہم منصب کو بتایا کہ پاکستان امدادی سرگرمیوں میں معاونت کے لیے نیپال کو ہنگامی امدادی سامان بھیج رہا ہے۔
نیپال کے وزیراعظم بالیندر شاہ نے ٹیلی فون کرنے اور قدرتی آفت کے بعد پاکستان کی جانب سے یکجہتی اور حمایت کے اظہار پر وزیراعظم شہبازشریف کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے پاکستان کی جانب سے امداد کی فراخدلانہ پیشکش پر بھی اظہار تشکر کیا۔

