واشنگٹن / اوٹاوا:خالصتان تحریک کے نمایاں رہنما اور سکھس فار جسٹس (SFJ) کے جنرل کونسل گرپتونت سنگھ پنوں کو ایک بار پھر جان سے مارنے کے سنگین اور نئے خطرات سے آگاہ کیا گیا ہے۔ امریکی فیڈرل بیورو آف انویسٹی گیشن (FBI) اور رائل کینیڈین ماؤنٹین پولیس (RCMP) نے انہیں باضابطہ طور پر خبردار کیا ہے کہ ان کی زندگی کو خطرہ لاحق ہے، اور انہیں صورتحال بہتر ہونے تک سفر سے اجتناب کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
پنوں کے مطابق، گزشتہ جمعرات کو ایف بی آئی کے اہلکاروں نے ان سے ملاقات کی تھی اور انہیں مشورہ دیا تھا کہ جب تک خطرہ ٹل نہیں جاتا، وہ غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور اگر سفر ناگزیر ہو تو ایجنسی کو پہلے سے آگاہ کریں۔ اس کے علاوہ منگل کے روز کینیڈین پولیس (RCMP) نے بھی انہیں ٹیلی فون کے ذریعے سکیورٹی خدرات سے باخبر کیا۔ امریکی اور کینیڈین حکام کی جانب سے اس نئے خطرے کی کوئی خاص تفصیلات تو فراہم نہیں کی گئیں، تاہم یہ انتباہ امریکہ کے "ڈیوٹی ٹو وارن” (Duty to Warn) قانون کے تحت جاری کیا گیا ہے، جو انٹیلی جنس اداروں کو کسی بھی فرد کو جان کے خطرے سے بروقت آگاہ کرنے کا پابند بناتا ہے۔
یہ نیا سکیورٹی الرٹ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب سال 2023 میں پنوں کے قتل کی مبینہ سازش رچنے والے بھارتی شہری نکھل گپتا — جنہوں نے رواں سال فروری میں اپنے اوپر لگائے گئے الزامات کا اعتراف کر لیا تھا — مین ہٹن کی وفاقی عدالت میں 20 نومبر کو سنائی جانے والی سزا کے منتظر ہیں۔
امریکہ اور کینیڈا کی دوہری شہریت رکھنے والے گرپتونت سنگھ پنوں نے ایک انٹرویو میں کہا کہ وہ ان دھمکیوں سے ہرگز خوفزدہ نہیں ہیں اور اپنے عزم پر قائم ہیں۔ انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ بھارتی حکومت موجودہ امریکی اور کینیڈین قیادت کے دور میں بلا خوف و خطر اپنے مقاصد حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ کینیڈین حکام کی جانب سے ایسے ہی وارننگز خالصتان ریفرنڈم کے رہنما ہردیپ سنگھ نجر کو بھی دیے گئے تھے، جنہیں جون 2023 میں برٹش کولمبیا میں قتل کر دیا گیا تھا۔
گرپتونت سنگھ پنوں کو جان سے مارنے کی نئی دھمکیاں: ایف بی آئی نے سکھ رہنما کو الرٹ جاری کر دیا

