تبت سے اٹھنے والے طاقتور سیلابی ریلے نےتباہی مچا دی، چینی صدر شی جن پنگ کی جانب سے امدادی کارروائیوں کا حکم
نئی دہلی / کھٹمنڈو:بدھ کے روز تبت کے سرحدی علاقے سے اٹھنے والے ایک انتہائی تباہ کن اور اچانک سیلابی ریلے نے وسطی نیپال میں کہرام مچا دیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق اس قدرتی آفت کے نتیجے میں اب تک 160 افراد کے جاں بحق ہونے کی تصدیق ہو چکی ہے، جبکہ 133 بھارتی شہریوں اور متعدد غیر ملکی سیاحوں سمیت 750 سے زائد افراد لاپتہ بتائے جا رہے ہیں۔ سیلاب نے کئی قصبوں اور دیہاتوں کا نام و نشان مٹا دیا ہے، مواصلاتی رابطے منقطع ہو چکے ہیں اور ایک درجن کے قریب پن بجلی (ہائڈرو پاور) پروجکٹس کو شدید نقصان پہنچا ہے۔
نیپال کے وزیر خارجہ ششیر کھنال نے پارلیمنٹ کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ تبت کے خطے میں مقامی وقت کے مطابق صبح 8:37 بجے ایک زلزلہ آیا جس کے فوراً بعد گلیشیئر پھٹنے سے یہ ہولناک سیلاب آیا۔ یہ ریلا بھوٹے کوشی ندی سے ہوتا ہوا تبت کی سرحد سے متصل اضلاع رسوا اور دھادنگ میں داخل ہوا۔ نیشنل ڈیزاسٹر رسک ریڈکشن اینڈ مینجمنٹ اتھارٹی کا کہنا ہے کہ لنڈے ندی میں چٹانیں گرنے اور پانی کی سطح خطرناک حد تک بڑھنے سے یہ سیلاب رسوا کے سرحدی قصبے تیمورے سے ہوتا ہوا تریشولی ندی میں جا پہنچا۔
These clips from the Nepal/Tibet floods are unbelievable 🤯 pic.twitter.com/WFxwvZpm50
— Politi_Rican 🇵🇷 𝕏 🇺🇸 (@TheRicanMemes) August 26, 2026
سیلاب کا یہ زور دار ریلا نوواکوٹ، چتوان، گورکھا، تناہو اور نولپراسی ایسٹ تک پھیل گیا، جس نے دارالحکومت کاٹھمنڈو سے 70 سے 200 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع علاقوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ نیپال پولیس کے مطابق اب تک 157 سے زائد لاشیں برآمد ہو چکی ہیں جبکہ لاپتہ ہونے والوں میں 133 بھارتی شہری، 37 غیر مقیم بھارتی (NRI) اور امریکہ، برطانیہ، آسٹریلیا، ملائیشیا، جنوبی افریقہ اور نیدرلینڈز سمیت دو درجن سے زائد ممالک کے سیاح شامل ہیں۔ بھارتی لاپتہ افراد میں کیلاش مانسروور یاترا کے کم از کم 50 عقیدت مند بھی بتائے جا رہے ہیں۔ اس کے علاوہ نیپال آرمی کے 44 اہلکاروں سمیت 80 سکیورٹی اہلکار بھی لاپتہ ہیں۔
سیلاب کے نتیجے میں نوواکوٹ کے علاقے بیتراوتی کو رسوا گڑھی بارڈر سے ملانے والی 42 کلومیٹر طویل سڑک اور گاڑیوں کی آمدورفت کے لیے استعمال ہونے والے 19 پل مکمل طور پر بہہ گئے ہیں۔
نيپال کې سېلابونو پلونه یو په بل پسې له ځان سره وړي
په نيپال کې د سختو سېلابونو يو شمېر پلونه نړولي او یو په بل پسې یې له ځان سره وړي دي.
په خپرو شویو ویډیوګانو کې لیدل کېږي چې سېلابي اوبه په ډېر شدت بهېږي او پلونه یې د اوبو د څپو پر وړاندې د مقاومت له توان پرته له منځه وړي.
— OMID Radio-Pashto (@omidradio1) August 27, 2026
متاثرہ علاقوں میں صورت حال کا جائزہ لینے کے لیے نیپال کے وزیر اعظم کی صدارت میں ایک ہنگامی اجلاس منعقد کیا گیا، جس کے بعد فوج، آرمڈ پولیس فورس اور نیپال پولیس کے دستوں کو بڑے پیمانے پر ریسکیو آپریشن کے لیے اتار دیا گیا ہے۔
دریں اثنا، چینی صدر شی جن پنگ نے اس تباہ کن سیلاب پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے لاپتہ افراد کی تلاش کے لیے ہر ممکن کوشش کرنے کا حکم دیا ہے۔ چینی حکومت نے امدادی کارروائیوں میں ہاتھ بٹانے کے لیے پیپلز آرمڈ پولیس کے شیگاٹس دستے کے 145 افسران اور اہلکار متاثرہ سرحدی علاقے میں روانہ کر دیے ہیں۔ نیپال حکومت نے عوام اور سیاحوں کی مدد کے لیے ہنگامی ہیلپ لائن نمبرز جاری کر دیے ہیں جبکہ دریاؤں کے کنارے آباد شہریوں کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی سخت ہدایات جاری کی گئی ہیں۔

