تہران:ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری محسن رضائی نے کہا ہے کہ ایران امریکا کی ’اقتصادی جنگ‘ میں شامل ہونے والے ممالک کو اپنا دُشمن تصور کرے گا۔
ایران اس سے قبل خطے کے ان ممالک کو ہدف بنا چکا ہے جہاں امریکی فوجی اڈے موجود ہیں۔
ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات فی الحال تعطل کا شکار ہیں، تاہم ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے جمعے کے روز کہا کہ اب اس چھ ماہ پر محیط تنازع کو ختم کرنے کا وقت آ گیا ہے۔
خیال رہے کہ امریکا نے ایران کے خلاف سخت اقتصادی پابندیاں لگانے کا اعلان کر رکھا ہے اور وہ دیگر ممالک پر بھی زور دے رہا ہے کہ ایران کے ساتھ اپنے اقتصادی روابط ختم کر دیں۔
ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ ہم اس وقت مکمل پیمانے کی معاشی، عسکری اور سکیورٹی جنگ کا سامنا کر رہے ہیں۔
اتوار کو ٹی وی پر نشر ہونے والے اپنے خطاب میں ایرانی صدر کا کہنا تھا کہ ایران کو ایک اور وینزویلا بنانے کوشش کی گئی، لیکن ایران ایسی طاقت کے طور پر اُبھرا جس نے مزاحمت دکھا کر دُنیا کو حیران کر دیا۔
ایرانی صدر کا مزید کہنا تھا کہ ایران کے دُشمنوں کو اُمید ہے کہ وہ مسائل کے ذریعے معاشرے میں تقسیم اور پھوٹ ڈال سکیں گے۔
اُن کا کہنا تھا کہ ہم تقسیم، پھوٹ، تنازعات اور انا پرستی سے بچنے کے لیے اپنی پوری کوشش کریں گے۔
امریکا کی اقتصادی جنگ میں شامل اتحادی ممالک ایران کے دشمن تصور ہوں گے، محسن رضائی

