بلوچستان رحمت اللہ بلوچ بیوروچیف بے نقاب نیوز)
نال کی معیاری کپاس کو تباہ ہونے سے بچایا جائے، انتظامیہ فوری نوٹس لے
نال زرعی اعتبار سے بلوچستان کے اہم علاقوں میں شمار ہوتا ہے۔ یہاں بڑی تعداد میں لوگوں کا ذریعۂ معاش زراعت سے وابستہ ہے۔ نال میں خصوصاً کپاس، گندم اور پیاز بہترین انداز میں کاشت کی جاتی ہیں، جبکہ نال کی کپاس اپنی صفائی اور عمدہ معیار کی وجہ سے ایک الگ پہچان رکھتی ہے۔مگر افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ اس وقت نال کی کپاس کے حوالے سے زمینداروں میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔ شکایات ہیں کہ بعض ڈیلرز نال کے زمینداروں سے کپاس کم نرخ پر خریدنے کے بعد اسے دوسرے علاقوں سے آنے والی کپاس کے ساتھ مکس کر رہے ہیں اور پھر یہی کپاس نال کے نام سے مارکیٹ میں پہنچ رہی ہے۔خاص طور پر جھاؤ، تربت، پنجگور اور دیگر علاقوں سے آنے والی کپاس کو نال کی کپاس کے ساتھ ملانے کی شکایات کی مکمل تحقیقات ضروری ہیں۔ ہمارا مقصد کسی دوسرے علاقے کے زمینداروں کی محنت کو تنقید کا نشانہ بنانا نہیں، بلکہ یہ مطالبہ ہے کہ ہر علاقے کی کپاس کو اس کے اصل علاقے اور معیار کے مطابق الگ رکھا جائے۔
اگر نال کی اعلیٰ معیار کی کپاس میں دوسری جگہوں کی مختلف یا کم معیار کی کپاس مکس کرکے نال کے نام سے فروخت کی گئی تو اس سے نال کی کپاس کی برسوں سے قائم ساکھ متاثر ہوگی، جس کا براہِ راست نقصان نال کے زمینداروں کو ہوگا۔تصاویر میں کپاس سے لدے ٹرکوں اور بڑی تعداد میں کپاس کی بوریاں واضح طور پر نظر آ رہی ہیں۔ متعلقہ اداروں سے اپیل ہے کہ ان معاملات کی موقع پر جا کر جانچ، کپاس کے معیار کی پڑتال اور خرید و فروخت کے طریقۂ کار کی نگرانی کی جائے ہم نال انتظامیہ، ڈپٹی کمشنر خضدار اور ڈائریکٹر جنرل زراعت بلوچستان سے مطالبہ کرتے ہیں کہ اس معاملے کا فوری نوٹس لیا جائے اور نال کی کپاس کے معیار و شناخت کو محفوظ بنانے کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں۔نال کی کپاس صرف ایک فصل نہیں، نال کے زمینداروں کی محنت اور پورے علاقے کی پہچان ہے۔
اس پہچان کو چند لوگوں کے مفاد کی خاطر متاثر نہ ہونے دیا جائے۔


