تحریر :اسد مرزا
جہاں لفظ بے نقاب ہوں۔۔۔ وہیں سے سچ کا آغاز ہوتاہے سون سکیسر کی خوبصورت پہاڑیوں کے دامن میں واقع پیاڑی مائنز بظاہر کوئلہ کی کان کا ایک دشوار گزار علاقہ تھا، مگر ایک عرصے تک یہی دشوار گزار جغرافیہ جرائم پیشہ عناصر کے لیے ڈھال بنا رہا۔ پہاڑ، محدود سڑکیں اور متعدد داخلی و خارجی راستے پولیس کے لیے چیلنج تھے، جبکہ یہ علاقہ نوگو ایریا بنا ہوا تھا یہاں منشیات اور ہر طرح کے جدیداسلحہ کی منڈیاں تھیں جو پنجاب کشمیر تک سپلائی دیتی اور یہاں لکی مروت بنوں کوہاٹ میانوالی پھر خوشاب پہاڑی راستوں سے منشیات اور اسلحہ پہنچایا جاتا جبکہ مختلف گینگز نے علاقہ غیر کی طرح اپنا قانون لاگو کر کے بیٹھے تھے خود ہی فیصلے کرتے جرگہ لگاتے ۔ مقامی افراد کے گھروں میں گھس کر خواتین کی عصمت درری کرنا یا پیاری مائنز دربار پر آئی ذائرین خواتین کا سب کچھ لوٹ لینا لیکن خوف کا یہ عالم تھا کہ کسی کی جرات نہیں تھی وہ پولیس کو شکایت کرے کیونکہ انہیں علم تھا کہ پولیس کی اس علاقے میں رٹ قائم نہیں۔ اس علاقے سے پنجاب بھر میں اسلحہ اور منشیات کی سپلائی ہوتی تھی۔ یہ وہ مرحلہ تھا جہاں ایک عام پولیس آپریشن اور ایک سوچے سمجھے آپریشنل منصوبے کے درمیان فرق نمایاں ہوا۔ اس وقت کے آئی جی پنجاب انعام غنی نے پیاری مائنز کے مسئلے کو محض ایک اور کریمنل کیس نہیں سمجھا بلکہ اسے ریاستی رٹ کا مسئلہ قرار دیا اور اس کا ٹاسک اس وقت کے آر پی سرگودھا اشفاق احمد خان اور ڈی پی او خوشاب محمد نوید کو سونپا۔ محمد نوید نے بھی روایتی انداز اختیار نہیں کیا۔ انہوں نے چند پولیس گاڑیاں بھیج کر چند ملزمان گرفتار کرنے اور کارروائی ختم کرنے کے بجائے اصل ہدف طے کیا کہ جرائم پیشہ عناصر کو ان کی محفوظ پناہ گاہ سے محروم کرنا ہے اور علاقے میں ریاست کی مستقل موجودگی یقینی بنانی ہے۔ محمد نوید نے اپنی نگرانی میں سپیشل ٹیم بنائی جس کا سربراہ یہ ایک نڈر پولیس افسر ڈی ایس پی عامر شیرازی کو بنایا۔ پہاڑی علاقے میں آپریشن صرف نفری بڑھانے کا نام نہیں ہوتا۔ وہاں ہر راستہ، ہر پہاڑی موڑ اور ہر ممکنہ فرار گاہ کو سمجھنا پڑتا ہے۔ پولیس نے اسی سوچ کے تحت علاقے کی نگرانی مختلف راستوں جبی ڈوکھڑی، کلیال، ورچھا اور چاڑ پر ناکہ بندی اور مشکوک نقل و حرکت پر نظر رکھنے کی حکمت عملی اور اختیار کی اور مقامی افراد میں اپنے سورس بنائے اسی طرح ملزمان کے موبائل نمبر کا ڈیٹا لیا تب علم ہوا کہ انکے پنجاب کے منشیات اور اسلحہ کے ڈیلر کون کون ہیں ۔یہاں محمد نوید کی اصل حکمت عملی سامنے آئی۔ مقصد صرف کسی ایک گینگسٹر کو پکڑنا نہیں بلکہ اس پورے نظام کو توڑنا تھا جس کے ذریعے جرائم پیشہ عناصر علاقے میں منشیات اور اسلحہ کی ترسیل اور خرید و فروخت کرتے تھے۔ ڈی ایس پی عامر شیرازی نے اس حکمت عملی کو میدان میں عملی شکل دی۔ مختلف سمتوں سے پولیس کی موجودگی، راستوں کی نگرانی، مشکوک افراد کی نقل و حرکت پر نظر اور جرائم پیشہ عناصر کی سپلائی لائن کو متاثر کرنے کی کارروائی نے ان گروہوں کو پہلی مرتبہ دفاعی پوزیشن پر لا کھڑا کیا۔اسی دوران منشیات اور اسلحہ کے مبینہ کاروبار سے وابستہ عناصر کے درمیان تنازع شدت اختیار کر گیا۔ فائرنگ کے نتیجے میں تین ملزمان ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے۔ پولیس ٹیموں نے مختلف سمتوں سے کارروائی کرتے ہوئے ملزمان کو گھیرے میں لیا۔ مقابلے کے دوران پولیس اہلکار بھی زخمی ہوئے، تاہم پولیس نے متعدد ملزمان کو گرفتار کیا، مقدمات درج کیے اور انہیں قانون کے کٹہرے تک پہنچایا۔ یہاں پولیس کی کامیابی صرف گرفتاریوں تک محدود نہیں رہی۔ اصل فیصلہ یہ تھا کہ پولیس واپس نہیں جائے گی۔ پیاری مائنز میں مستقل پولیس چیک پوسٹ کا قیام پورے آپریشن کا اہم ترین مرحلہ ثابت ہوا۔ چند روزہ کارروائی جرائم پیشہ عناصر کو وقتی طور پر منتشر کرسکتی ہے،لیکن مستقل پولیس موجودگی ان کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہوتی ہے۔ چیک پوسٹ کے قیام نے واضح کردیا کہ یہ علاقہ اب کسی گینگ یا گروہ کا نہیں بلکہ ریاست کا حصہ ہے۔ سیکورٹی فورسز نے اس حوالے سے ڈی پی او محمد نوید کے آپریشن کو سراہا اور تمام تر معلومات حاصل کیں ۔ انہوں نے بتایا کہ اس علاقے میں آپریشن کے لئے انٹیلی جنس معلومات حاصل کی جا رہی تھی لیکن آپ نے حکمت عملی سے اس آپریشن میں نمایاں کردار ادا کیا بلکہ آپ نے وقتی کامیابی کے بجائے مستقل حل کو ترجیح دی۔ پولیس کارروائی کے بعد واپس چلے جانے کے بجائے مستقل پولیس موجودگی قائم کی گئی تاکہ جرائم پیشہ عناصر دوبارہ علاقے میں اپنے قدم نہ جما سکیں۔ یہ کامیابی صرف چند گرفتاریوں یا ایک پولیس مقابلے کے اعداد و شمار سے نہیں ناپی جاسکتی۔ اس کامیابی کو اس تبدیلی سے ناپنا چاہیے جو مقامی لوگوں کے ذہنوں میں پیدا ہوئی۔ جہاں کبھی جرائم پیشہ عناصر کا خوف تھا، وہاں پولیس کی موجودگی نے تحفظ کا احساس پیدا کیا۔پیاری مائنز کی کارروائی میں انعام غنی کا وژن، اشفاق احمد خان اور محمد نوید کی کمانڈ عامر شیرازی کی فیلڈ لیڈرشپ ایک ہی حکمت عملی کی مختلف کڑیاں بن کر سامنے آئیں۔ مسئلے کو پہچانا گیا، اسے مشن بنایا گیا اور پھر میدان میں اس پر عمل درآمد کیا گیا۔ آج بھی پیاری مائنز اور خوشاب کے لوگ اس آپریشن کے حوالے سے پولیس افسران کو یاد کرتے ہیں بلکہ مقامی افراد نے جو ناقابل برداشت حالات مںں گزارے دن کے بارے سوچ کر رو پڑتے ہیں اور ان بہادر افسران کو دعائیں دیتے ہیں۔ ایک اطلاع کے مطابق لاہور میں ایس پی کینٹ اور ایس پی صدر آپریشنز کی تعیناتی کا معاملہ کئی روز سے زیرِ بحث تھا، تاہم سب سے زیادہ اہمیت ایس پی کینٹ کی پوسٹنگ کو حاصل رہی۔ ذرائع کے مطابق ایک خاتون پولیس افسر اس اہم عہدے پر تعیناتی کی خواہش مند تھیں اور اس حوالے سے اعلیٰ سطح پر بھی کوششیں جاری تھیں۔ تاہم آئی جی پنجاب نے گزشتہ روز ایس پی سٹی آپریشنز عاطف امیر کو ایس پی کینٹ تعینات کر دیا۔