بلوچستان رحمت اللہ بلوچ بیوروچیف بے نقاب نیوز)
ضلع کچھی کے ہیڈکوارٹر ڈھاڈر کا واحد فٹبال اسٹیڈیم محکمہ اسپورٹس کی مسلسل عدم توجہی اور عدم توجہی کے باعث مکمل طور پر تباہی کا شکار ہو کر کھنڈرات میں تبدیل ہو چکا ہے کھیل کا یہ تاریخی میدان جو کبھی نوجوانوں کی مثبت سرگرمیوں کا مرکز ہوا کرتا تھا اب نشے کے عادی افراد کا گڑھ بن چکا ہے گزشتہ سالوں کی بارشوں اور دیکھ بھال نہ ہونے کی وجہ سے اسٹیڈیم کی چار دیواری شدید متاثر ہوئی ہے جبکہ دو اطراف کی دیواریں گر کر زمین بوس ہو چکی ہیں تماشائیوں کے بیٹھنے کے لیے بنائے گئے اسٹینڈز ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں اور وہاں جنگلی گھاس اور جھاڑیوں نے جنم لے لیا ہے جس کی وجہ سے ڈھاڈر کے مقامی کھلاڑیوں اور شائقین کھیل نے گراؤنڈ کا رخ کرنا چھوڑ دیا ہے مقامی کھلاڑیوں اور شہریوں کا کہنا تھا کہ اسٹیڈیم میں تعینات عملہ اپنی ذمہ داریوں سے مکمل طور پر غافل ہے اور ڈیوٹی پر حاضر ہوئے بغیر ہر ماہ لاکھوں روپے کی تنخواہیں وصول کر کے قومی خزانے پر بوجھ بنے ہوئے ہیں محکمہ اسپورٹس کے ضلعی افسران کو متعدد بار تحریری و زبانی شکایتیں درج کرائی گئیں لیکن تا حال کوئی شنوائی نہیں ہوئی ہے ڈھاڈر کے سیاسی و سماجی حلقوں اور کھلاڑیوں نے وزیراعلی بلوچستان میر سرفراز بگٹی صوبائی مشیر کھیل سیکرٹری کھیل ڈی جی اسپورٹس اور کمشنر سبی ڈویژن سے مطالبہ کیا ہے کہ ڈھاڈر فٹبال اسٹیڈیم کو پہنچنے والے نقصان اور ذمہ دار ملازمین کی غفلت کا فوری نوٹس لیا جائے ڈیوٹی سے مفرور اور غیر فعال ملازمین کے خلاف سخت قانونی و محکمانہ کارروائی کی جائے اسٹیڈیم کی فوری تعمیر و مرمت اور چار دیواری کی دوبارہ تعمیر کے لیے فنڈز جاری کیے جائیں تاکہ نوجوانوں کو کھیل کی صحت مند سہولیات دوبارہ میسر آ سکیں۔


