دو ہزار برس سے زائد مستند تاریخ رکھنے والا سرینگر شہر ملک کے قدیم ترین شہروں میں شمار ہوتا ہے جو زندگی کی رنگارنگی کی وجہ سے ایک امتیازی شان کا حامل ہے۔ شہر کے ایک طرف صنعت نگر اور حیدرپورہ جیسے پر تعیش علاقے ہیں، جہاں چار سے پانچ افراد پر مشتمل چھوٹے خاندان بڑے، کشادہ اور کثیر المنزلہ گھروں میں رہتے ہیں۔ دوسری طرف پرانا شہر، جسے عام طور پر ڈاؤن ٹاؤن کہا جاتا ہے، جہاں لوگ بوسیدہ اور تنگ کمروں کے اندر کئی کئی خاندانوں کے ساتھ زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں، جہاں شادی بیاہ اور سوگ جیسے سماجی مواقع کے لیے بھی مناسب جگہ موجود نہیں۔
رفیقہ نے ای ٹی وی بھارت کو بتایا کہ ہمارے اس گھر میں تین کنبوں کے 12 افراد رہتے ہیں۔ میری دو بہوئیں ہیں۔ وہ دو کمروں میں رہتی ہیں جو ایک دوسرے کے اوپر بنے ہوئے ہیں اور وہاں پہنچنے کے لیے ایک بوسیدہ لکڑی کی سیڑھی استعمال ہوتی ہے۔ انہی کمروں کے ایک چھوٹے سے حصے میں باورچی خانہ ہے جبکہ پورے خاندان کے لیے صرف ایک چھوٹا مشترکہ غسل خانہ ہے۔ ہم اسی تنگ جگہ میں اپنی خوشیاں اور غم ایک ساتھ بانٹتے ہیں۔
سرینگر ماسٹر پلان 2035 کے مطابق 766 مربع کلومیٹر پر پھیلا سرینگر شہر پرانے شہر، نوگام، نارہ بل اور پاندچھ سمیت 12 لاکھ سے زائد آبادی پر مشتمل ہے۔ اس وقت تقریباً تین لاکھ گھرانوں پر مشتمل آبادی اس شہر میں رہائش پذیر ہے۔ گزشتہ ایک صدی کے دوران شہر کی آبادی میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔ مردم شماری 1901 کے مطابق شہر کی آبادی 1,22,618 نفوس پر مشتمل تھی، جو مردم شماری 2011 میں بڑھ کر 12,25,837 ہو گئی۔
مردم شماری 2011 کے مطابق سرینگر میٹروپولیٹن ریجن میں رہائشی مکانات کی خالص کمی تقریباً چار فیصد ہے۔ تقریباً 10 فیصد گھرانے ایک کمرے، 18 فیصد دو کمروں جبکہ 68 فیصد دو سے زیادہ کمروں والے گھروں میں رہتے ہیں۔رفیقہ جیسے ہزاروں شہری ایسے مشترکہ رہائشی یونٹس میں روزمرہ زندگی کی مشکلات برداشت کرنے پر مجبور ہیں۔

