برسلز: بیلجیئم میں تاریخ کی سب سے بڑی جنگل کی آگ پر قابو پانے کے لیے فائر فائٹرز کی ٹیموں نے پوری رات شدید جدوجہد کی۔ اتوار کی صبح تک یہ ہولناک آگ 3 ہزار ہیکٹر رقبے کو خاکستر کر چکی ہے اور اب تیزی سے جرمنی کی سرحد کی جانب بڑھ رہی ہے۔
رپورٹ کے مطابق، ملک کے مشرقی حصے میں واقع قدرتی محفوظ ریزرو ’ہائی فینز‘ (High Fens) میں لگی یہ آگ جمعے کے روز سے مسلسل بھڑک رہی ہے۔ آگ پر قابو پانے کے لیے بیلجیئم بھر کے علاوہ ہمسایه ممالک جرمنی اور لکسمبرگ کے فائر فائٹرز، پاک فوج کے طرز پر مقامی فوج کے دستے اور کسان بھی امدادی کارروائیوں میں مصروف ہیں۔
والونیا ریجن کی انتظامیہ کی ترجمان اسٹیفنی ایرنوکس نے بتایا کہ اتوار کے روز ریسکیو ٹیموں کی پوری توجہ آگ کے اس حصے پر تھی جو جرمنی کی طرف بڑھ رہا ہے۔ حکام کو امید ہے کہ موسم میں ہلکی خنکی اور نمی میں اضافے سے آگ کو روکنے میں مدد ملے گی۔ اعداد و شمار کے مطابق یہ آگ 2011 میں لگنے والی اس آگ سے دو گنا سے بھی زیادہ بڑی ہے جس نے تقریباً 1400 ہیکٹر رقبے کو جلایا تھا۔
بیلجیئم کی ہنگامی درخواست پر یورپی یونین نے بھی فوری ردعمل دیتے ہوئے مختلف یورپی ممالک سے 3 ہیلی کاپٹرز اور 2 واٹر بمبر طیارے امدادی کاموں کے لیے بھیج دیے ہیں۔
لیج کے گورنر کے دفتر سے جاری ہونے والی تازہ ترین اپ ڈیٹ کے مطابق، جو گاؤں پہلے ہی خالی کرا لیے گئے تھے ان کے اردگرد قائم دفاعی لائن فی الحال محفوظ ہے، تاہم اتوار کے روز بھی مکینوں کو اپنے گھروں کو واپس نہ لوٹنے کی ہدایت کی گئی ہے کیونکہ آگ تاحال قریب ہے اور دھوئیں کے بادل گہرے ہیں۔
واضح رہے کہ یہ تباہ کن آتش زدگی ایک ایسے وقت میں لگی ہے جب بیلجیئم سمیت پورا یورپ اس موسم گرما کی پانچویں شدید ترین ہیٹ ویو (گرمی کی لہر) کی لپیٹ میں ہے۔ ماہرینِ ماحولیات کا کہنا ہے کہ انسان کی پیدا کردہ موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے خشک اور گرم موسمی حالات شدت اختیار کر رہے ہیں، جس کی وجہ سے جنگلات میں لگنے والی آگ زیادہ تیزی سے پھیلتی ہے اور طویل عرصے تک جلتی رہتی ہے۔
بیلجیئم میں تاریخی آتشزدگی: 3 ہزار ہیکٹر جنگل راکھ شعلے جرمنی کی طرف بڑھنے لگے

