کراچی: پاکستان میں گڈز ٹرانسپورٹرز نے ملک بھر میں گزشتہ نو دن سے جاری اپنی شٹر ڈاؤن اور پہیہ جام ہڑتال کو حکومت کی جانب سے مطالبات تسلیم کیے جانے کی یقین دہانی پر 40 روز کے لیے مؤخر کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
گورنر ہاؤس کراچی میں گڈز ٹرانسپورٹرز اور اعلیٰ حکومتی حکام کے درمیان طویل مذاکرات کامیاب رہے، جس کے بعد یہ اہم فیصلہ سامنے آیا۔ مذاکرات میں گورنر سندھ اور وفاقی وزیر مواصلات علیم خان سمیت دیگر اہم سرکاری شخصیات نے شرکت کی۔
آل پاکستان گڈز ٹرانسپورٹ اتحاد کے صدر ملک شہزاد اعوان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے واضح کیا کہ حکومت نے ہمارے تمام جائز مطالبات کو حل کرنے کی مکمل یقین دہانی کرائی ہے، اسی لیے ہڑتال کو مکمل طور پر ختم کرنے کے بجائے فی الحال 40 دن کے لیے مؤخر کیا جا رہا ہے۔ اس سے قبل وفاقی وزیر مواصلات نے احتجاجی کیمپ کا دورہ بھی کیا تھا اور ٹرانسپورٹرز کے مسائل حل کرنے کا وعدہ کیا تھا۔
گڈز ٹرانسپورٹرز کے اہم مطالبات:
مذاکرات کے دوران ٹرانسپورٹرز نے اپنے درج ذیل مطالبات حکومت کے سامنے رکھے جن پر غور کرنے کی یقین دہانی کرائی گئی ہے:
پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں روزانہ کی بنیاد پر ہونے والے رد و بدل کے نظام کو ختم کر کے قیمتوں کا تعین ماہانہ بنیادوں پر کیا جائے۔
ٹول ٹیکس میں حال ہی میں کیے گئے ظالمانہ اضافے کو فوری طور پر واپس لیا جائے۔
ٹول ٹیکس کی شرح کو 30 جون 2024 کی سطح پر دوبارہ بحال کیا جائے۔
اگلے ایک سال تک ٹول ٹیکس میں کسی بھی قسم کے اضافے سے گریز کیا جائے اور اس دوران نئے ٹول پلازے بھی تعمیر نہ کیے جائیں۔
حکومتی وفد کی جانب سے ان مطالبات پر مثبت پیش رفت کی یقین دہانی کے بعد ٹرانسپورٹرز نے عارضی طور پر اپنی ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے جس سے کاروباری اور تجارتی حلقوں نے سکھ کا سانس لیا ہے۔

