لاہور: لاہور میں فائرنگ کے دلخراش واقعے کے دوران تین پولیس اہلکاروں کی شہادت اور دو کے زخمی ہونے کے معاملے میں مرکزی ملزم ریحان بٹ کے مبینہ سہولت کاروں کے خلاف تحقیقات کا دائرہ کار وسیع کر دیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق تحقیقاتی ٹیمیں مصری شاہ کے اے ایس آئی جمشید اور لوئر مال کے ڈرائیور مجید کے ملزم ریحان بٹ کے ساتھ مبینہ رابطوں کی باریک بینی سے چھان بین کر رہی ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اے ایس آئی جمشید پر یہ الزام ہے کہ انہوں نے مبینہ طور پر اپنے موبائل فون سے فرخندہ آباد کے گن مین نواز کو پولیس چھاپے کی پیشگی اطلاع دی تھی۔ اس اطلاع کے بعد ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران اور آر پی او شیخوپورہ اطہر اسماعیل کی نگرانی میں پولیس نے علی الصبح نارنگ منڈی کے علاقے فرخندہ آباد میں فوری کارروائی کی۔
اس کارروائی کے دوران پولیس نے علی سہیل ورک کے بھائی طلحہ ورک کے سسرالی خاندان سے تعلق رکھنے والے ایک اہم شخص اور ایک خاتون کو حراست میں لے کر فیروزوالہ تھانے منتقل کیا تھا، تاہم ابتدائی تفتیش میں اس سفاکانہ واقعے سے ان کا کوئی بھی براہِ راست تعلق یا ملوث ہونا ثابت نہیں ہوا، جس کے بعد دونوں کو باعزت طور پر رہا کر دیا گیا۔ البتہ، پولیس کے پہنچنے سے قبل ہی مرکزی گن مین نواز موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا تھا۔
حکام کی جانب سے اے ایس آئی جمشید کے سابقہ محکمانہ ریکارڈ اور بعض بااثر شخصیات کے ساتھ مبینہ روابط کی بھی گہرائی سے جانچ کی جا رہی ہے۔ ایک جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم (JIT) جدید موبائل ڈیٹا، کال ریکارڈ، باہمی رابطوں اور دیگر فارنزک شواہد کی روشنی میں ملزم ریحان بٹ کی سہولت کاری میں ملوث تمام کرداروں کو بے نقاب کرنے کے لیے برسرِ پیکار ہے۔
لاہور پولیس فائرنگ واقعہ:اہم شخصیت کی بجائے ”پرتگال فیم“ علی ورک کے نئے رشتے دار کی حراست پھر رہائی

