نئی دہلی: کانگریس کے سینئر رہنما اور اپوزیشن کے اہم رہنما راہل گاندھی نے دعویٰ کیا ہے کہ چینی فوج نے اروناچل پردیش میں لائن آف ایکچوئل کنٹرول (ایل اے سی) کے ساتھ بعض اہم مقامات پر انڈین فوجیوں کو گشت کرنے سے روک دیا ہے، جبکہ موجودہ حکومت اس حساس معاملے کو عوام سے چھپانے کی کوشش کر رہی ہے۔
’رچناتمک کانگریس‘ کے قومی کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے راہل گاندھی نے انکشاف کیا کہ انہیں وزیراعظم کے دفتر کے اندرونی ذرائع سے اطلاعات مل رہی ہیں کہ وہاں "مکمل بغاوت” جیسی کیفیت ہے۔ ان کے مطابق، جن علاقوں میں روایتی طور پر انڈین فوج گشت کرتی تھی، اب وہاں چین نے رکاوٹیں کھڑی کر دی ہیں اور یہ کہہ رہا ہے کہ زمین چاہے آپ کی ہو لیکن آپ یہاں گشت نہیں کر سکتے۔ انہوں نے تنقید کی کہ وزیراعظم نریندر مودی، وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ اور وزیر داخلہ امیت شاہ اس معاملے پر مکمل طور پر خاموش ہیں۔
راہل گاندھی نے الزام عائد کیا کہ حکومت میڈیا اداروں کے ایڈیٹرز پر دباؤ ڈال رہی ہے کہ اس سنگین سرحدی صورتحال کو اخبارات اور ٹی وی چینلز کی زینت نہ بنایا جائے۔ انہوں نے ماضی کے گلاوان واقعے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم کے اس دعوے نے کہ "چین نے ایک انچ زمین بھی نہیں لی”، خود بھارتی مؤقف کو کمزور کیا اور چینی مذاکرات کاروں کو فائدہ پہنچایا۔
دوسری جانب، سلمان خورشید کی زیرِ قیادت کانگریس کے شعبۂ خارجہ نے بھی اروناچل پردیش کے علاقے تکسنگ میں چینی جارحیت اور گشت کے مقامات تک رسائی روکے جانے پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ پارٹی نے یاد دلایا کہ رواں برس مارچ میں انڈین فوج کے ڈپٹی چیف لیفٹیننٹ جنرل راجیو گھئی نے بھی سرحد کے نزدیک چین کی جانب سے سیکڑوں "خوشحال دیہات” (ژیاؤ کانگ) بسائے جانے کا ذکر کیا تھا۔
تاہم، انڈین حکومت کی جانب سے راہل گاندھی کے تازہ الزامات پر فوری طور پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا اور نہ ہی اروناچل پردیش میں کسی ایسی تازہ پیش رفت کی سرکاری تصدیق کی گئی ہے۔ اس سے قبل وزارتِ خارجہ نے مؤقف اپنایا تھا کہ سرحد پر امن و سکون برقرار رکھنا انتہائی اہم ہے، جبکہ چین نے سرحدی صورتحال کو مجموعی طور پر مستحکم قرار دیا ہے۔

