راولپنڈی :بلوچستان کے ضلع سوراب میں دہشت گردی کی غرض سے تیار کی جانے والی بارودی مواد سے بھری گاڑی تیاری کے مرحلے میں پھٹ گئی، جس کے نتیجے میں 11 دہشت گرد ہلاک ہوگئے اور جائے وقوعہ پر موجود بارودی مواد کے مزید دھماکوں کے نتیجے میں ملحقہ علاقے کے 3 شہری بھی جاں بحق ہوئے جب کہ واقعے کے بعد سیکیورٹی فورسز اور پولیس کے مشترکہ کلیئرنس آپریشن کے دوران فرار ہونے والے مزید 11دہشت گرد بھی مارے گئے۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے جاری بیان کے مطابق 12 اگست کو بلوچستان کے ضلع سوراب میں ’فتنہ الہندوستان‘ سے وابستہ دہشت گردوں کی جانب سے گاڑی میں دھماکا خیز مواد نصب کرنے کے دوران زور دار دھماکا ہوا، جس کے نتیجے میں 8 دہشت گرد ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے۔
آپریشن ردُّالفتنہ 3 کے تحت سیکیورٹی فورسز کی مؤثر کارروائی میں سُرب کے قریب دہشت گردوں کے ایک ٹھکانے کو نشانہ بنایا گیا۔ اطلاعات کے مطابق دہشت گرد بڑی مقدار میں دھماکا خیز مواد جمع کرکے گاڑیوں میں نصب بم تیار کرنے کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔ سیکیورٹی فورسز کی بروقت کارروائی کے… pic.twitter.com/0QUqfPkNMM
— Pakistan Cyber Defender (@PakCyberDefn) August 12, 2026
آئی ایس پی آر کے مطابق دھماکے اور دہشت گردوں کی جانب سے وہاں ذخیرہ کیے گئے دیگر دھماکا خیز مواد کے پھٹنے سے ہونے والے مزید دھماکوں کے باعث قریبی علاقے میں موجود 3 شہری بھی جاں بحق ہوگئے۔
آئی آیس پی آر کے مطابق واقعے کے بعد فوری ردعمل کے طور پر سیکیورٹی فورسز اور بلوچستان پولیس جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں اور انہوں نے دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کا سراغ لگانے کے لیے مشترکہ کلیئرنس آپریشن شروع کیا۔
On the morning of 12 August 2026, an under preparation Vehicle-Borne Improvised Explosive Device (VBIED) detonated while being prepared by terrorists affiliated with Fitna Al Hindustan in Surab District of Balochistan. The premature detonation during preparation resulted into…
— DG ISPR (@OfficialDGISPR) August 12, 2026
آپریشن کے دوران سیکیورٹی فورسز نے فرار ہونے والے دہشت گردوں کی نقل و حرکت کا بروقت پتہ لگایا اور مؤثر کارروائی کرتے ہوئے مزید 10 دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا، ان واقعات میں اب تک ’فتنہ الہندوستان‘ سے وابستہ 18 دہشت گردوں کو ہلاک کیا جا چکا ہے جب کہ شدید فائرنگ کے تبادلے کے دوران پاک فوج کے 2 بہادر اہلکار بھی زخمی ہوئے۔
ترجمان پاک فوج کا کہنا ہے کہ علاقے میں باقی ماندہ دہشت گردوں کے خاتمے اور علاقے کو مکمل طور پر محفوظ بنانے کے لیے سینیٹائزیشن آپریشن جاری ہے، نیشنل ایکشن پلان کے تحت وفاقی ایپکس کمیٹی سے منظور شدہ وژن عزم استحکام کے تحت سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے ادارے ملک سے غیر ملکی حمایت یافتہ دہشت گردی کی لعنت کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے انسدادِ دہشت گردی کی مہم پوری رفتار سے جاری رکھے ہوئے ہیں۔
وزیراعظم، وزیرداخلہ کا سوراب آپریشن پر سیکیورٹی فورسز کو خراج تحسین شہریوں کی اموات پر اظہار غم
دوسری جانب وزیرِاعظم شہباز شریف نے بلوچستان کے ضلع سورات میں 18 دہشت گردوں کی ہلاکت پر سیکیورٹی فورسز کے افسران اور اہلکاروں کی پزیرائی کی اور عام شہریوں کی قیمتی جانوں کے ضیاع پر دکھ کا اظہار کیا ہے۔
وزیرِاعظم نے کہا کہ فتنہ الہندوستان کے دہشت گرد بلوچستان کے امن اور عوام کے دشمن ہیں۔
وفاقی وزیرداخلہ نے بھی 18 دہشت گردوں کی ہلاکت پر سیکیورٹی فورسز کی ستائش کی اور دہشت گردوں کےعزائم ناکام بنانے پر سیکیورٹی فورسز کی صلاحیتوں کو سراہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیکیورٹی فورسز کی نمایاں کامیابیاں قابل تحسین ہیں۔

