اسلام آباد / کراچی: ملک کی معاشی صورتحال سے متعلق انتہائی تشویشناک اعداد و شمار سامنے آئے ہیں۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان (SBP) کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ کے مطابق گزشتہ چار سالوں کے دوران وفاقی حکومت کے قرضوں میں 75 فیصد کا ریکارڈ اور تشویشناک اضافہ دیکھا گیا ہے۔ مالی سال 2025-26 کے دوران اکیلے مرکزی حکومت کے قرضوں میں 57.5 کھرب روپے کا بھاری بھرکم اضافہ ہوا ہے، جس کے بعد جون 2026 کے اختتام پر ملک کا مجموعی سرکاری قرضہ تاریخ کی بلند ترین سطح یعنی 836.4 کھرب (83,640 ارب) روپے تک جا پہنچا ہے۔
اسٹیٹ بینک کے اعداد و شمار کے مطابق، گزشتہ مالی سال کے اختتام پر مرکزی حکومت کا مجموعی قرض 778.9 کھرب روپے تھا، یعنی صرف ایک سال کے اندر اس میں 7.4 فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔ اگر ماہانہ بنیادوں کا جائزہ لیا جائے تو صرف جون کے ایک ماہ کے دوران ہی حکومتی قرض میں 3.86 فیصد کی تیز رفتار نمو ریکارڈ کی گئی۔
مرکزی بینک کا کہنا ہے کہ زیر جائزہ مالی سال کے دوران حکومتی قرضوں میں اس بڑے اضافے کی بنیادی وجہ اندرونی (ملکی) قرضوں میں ہونے والا پے در پے اضافہ ہے۔
مالی سال کے دوران ملکی قرضے 9.1 فیصد بڑھ کر جون 2026 کے اختتام پر 59,440 ارب روپے (594.4 کھرب) تک پہنچ گئے، جبکہ ایک سال قبل یہ 54,470 ارب روپے تھے۔ صرف ایک ماہ کے اندر ملکی قرضوں میں 3.24 فیصد کا اضافہ ہوا۔
دوسری جانب حکومت کے بیرونی قرضوں میں بھی اضافہ جاری رہا۔ جولائی 2025 سے جون 2026 کے دوران بیرونی قرض بڑھ کر 242 کھرب روپے ہو گئے، جبکہ جون 2025 کے اختتام پر یہ 234.20 کھرب روپے ریکارڈ کیے گئے تھے، جو کہ بیرونی قرضوں میں 3.3 فیصد اضافے کو ظاہر کرتا ہے۔
گزشتہ چار سالوں میں وفاقی حکومت کے قرضوں میں 75 فیصد کا اضافہ، مجموعی قرض 836 کھرب روپے سے تجاوز کر گیا!

