اسلام آباد:پاکستان کے نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے بدھ کو تصدیق کی ہے کہ بحیرہ احمر میں ایک تجارتی جہاز پر حملے میں تین پاکستانی جان سے گئے جبکہ ایک زخمی ہوا ہے۔
پاکستان نے بحیرہ احمر اور آبنائے باب المندب کے قریب حوثی حملوں میں پاکستانی شہریوں کی ہلاکت کے بعد ایک اہم اور دوٹوک پالیسی بیان جاری کیا ہے۔
دفترِ خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی کا کہنا ہے کہ پاکستان سعودی عرب کی قیادت میں قائم بحری سلامتی کے اتحاد کا فعال رکن اور دستخط کنندہ ہے، اور عالمی سپلائی چین کی بحری آمدورفت کے تحفظ کے لیے اس اتحاد کے اعلامیے پر عمل درآمد میں بھرپور تعاون کرنے کے لیے تیار ہے۔
بدھ کے روز اسلام آباد میں اپنی ہفتہ وار میڈیا بریفنگ کے دوران جب ترجمان دفترِ خارجہ طاہر اندرابی سے بحیرہ احمر میں ایک تجارتی جہاز پر ہونے والے اس ہولناک حملے کے بارے میں سوال کیا گیا جس میں ایک پاکستانی سمیت عملے کے افراد جاں بحق ہوئے تھے، تو انہوں نے نائب وزیراعظم اور وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار کا جاری کردہ بیان دہرایا۔ دفترِ خارجہ نے اس حملے کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کی ہے۔
وزیر خارجہ اسحاق ڈار کا کہنا ہے کہ ’پاکستان غیر جنگی تجارتی جہاز پر حوثیوں کے حملے کی شدید مذمت کرتا ہے۔ اس طرح کے حملے معصوم انسانی جانوں کو خطرے میں ڈالتے ہیں، بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہیں اور بحیرہ احمر میں جہاز رانی کی آزادی، بحری سلامتی اور تجارتی جہاز رانی کے تحفظ کے لیے سنگین خطرہ ہیں۔اسحاق ڈار نے یہ بھی کہا کہ ’میں نے ریاض میں پاکستانی سفارت خانے کو ہدایت کی ہے کہ وہ متعلقہ حکام کے ساتھ فوری طور پر رابطہ کرے اور مرنے والے پاکستانی شہریوں کی میتوں کی واپسی اور پاکستان منتقلی کے لیے تمام ضروری اقدامات بھرپور طریقے سے یقینی بنائے، جبکہ زخمی پاکستانی شہری کو ہر ممکن مدد فراہم کی جائے۔
ترجمان نے واضح کیا کہ پاکستان بین الاقوامی قوانین اور اصولوں کے تحت بین الاقوامی آبی گزرگاہوں میں جہاز رانی کی مکمل آزادی اور بحری سلامتی کا زبردست حامی ہے۔ انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ پاکستان اسٹریٹجک اہمیت کے حامل بحری راستوں پر امن اور سیکیورٹی برقرار رکھنے کے لیے پرعزم ہے۔
طاہر اندرابی نے مزید کہا کہ پاکستان سعودی عرب کی جانب سے تشکیل دیے گئے بحری اتحاد کے اعلامیے پر سختی سے عمل پیرا ہے۔ اسلام آباد اپنے برادر ملک سعودی عرب اور اتحاد کے دیگر تمام شراکت داروں کے ساتھ قریبی رابطے میں ہے تاکہ بحری سلامتی کے مشترکہ اہداف حاصل کیے جا سکیں، سپلائی چین کو محفوظ بنایا جا سکے اور بین الاقوامی سمندروں میں ٹریفک کو کسی بھی خطرے سے بچایا جاسکتا ہے۔
بحیرہ احمر میں پاکستانیوں کی ہلاکت: سعودی قیادت میں قائم بحری اتحاد کے اعلامیے پر عمل درآمد کے لیے مکمل تیار ہیں، پاکستان

