بلوچستان رحمت اللہ بلوچ بیوروچیف بے نقاب نیوز)
منگچر بازار گزشتہ 19 روز سے مکمل طور پر بند ہونے کے باعث شہریوں اور کاروباری طبقے کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ بازار کی مسلسل بندش سے عوام نانِ شبینہ کے محتاج ہو گئے ہیں، جبکہ روزانہ اجرت پر کام کرنے والے افراد اور چھوٹے کاروبار سے وابستہ لوگوں کے گھروں کے چولہے ٹھنڈے پڑنے لگے ہیں ذرائع کے مطابق سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر منگچر بازار بند ہے، تاہم 19 روز گزرنے کے باوجود بازار کھولنے کے حوالے سے کوئی واضح پیش رفت سامنے نہیں آ سکی۔عوام کا کہنا ہے کہ منگچر کسی عام علاقے کا نام نہیں بلکہ وزیرِ داخلہ کا آبائی علاقہ ہے، اس کے باوجود بازار کی مسلسل 19 روزہ بندش پر نہ سردار، نہ میر، نہ معتبر شخصیات اور نہ ہی کسی عوامی نمائندے نے مؤثر طور پر اس مسئلے کا نوٹس لیا ہے۔بازار کی بندش سے عوام میں شدید تشویش اور بے چینی پائی جا رہی ہے۔ شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت اور متعلقہ حکام فوری طور پر صورتحال کا نوٹس لیں، عوام کو درپیش مشکلات کا ازالہ کریں اور امن و امان کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے منگچر بازار کو جلد از جلد کھولنے کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں۔عوام کا کہنا ہے کہ اگر بازار مزید بند رہا تو غریب اور متوسط طبقے کی مشکلات میں مزید اضافہ ہوگا، اس لیے حکام خاموشی توڑ کر مسئلے کا فوری حل نکالیں۔

